ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی گاڑیاں ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم پر ملک کے انحصار کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔
پالیسی اداہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام ‘پاکستان میں برقی گاڑیوں کی مارکیٹ اور پالیسیوں کی صورتحال’ کے موضوع پرمنعقدہ ویبنار سے خطاب میں ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے پالیسیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نوید ارشد نے اپنے خطاب میں پاکستان میں برقی گاڑیوں سے متعلق پالیسی کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں محض ایک وزارت کا عمل دخل کافی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کمیشن، سرمایہ کاری بورڈ اور پارلیمنٹ کو بھی اس عمل میں شریک ہونا چاہئے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سیکرٹری صابر جمیل نے شرکاء کو بتایا کہ حکومت برقی گاڑیوں کے فروغ کے لیے کئی طرح کی مراعات کی پیشکش کر رہی ہے۔
وزارت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سابق ڈائریکٹر جنرل عرفان طارق نے کہا کہ برقی گاڑیوں کے فروغ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا کردار انتہائی اہم ہے اور انہیں ترقی دے کر پاکستان ماحول کی بہتری کے لیے اپنی عالمی یقین دہانیوں پر بھی پورا اتر سکتا ہے۔
یو این ایچ سی آر کے ڈاکٹر تنویر احمد نے کہا کہ بلند ابتدائی قیمت کی وجہ سے پاکستان میں ان گاڑیوں کی مانگ کم ہے بجکہ دیوان موٹرز کے احمد سجیل نے کہا کہ برقی گاڑیوں کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit