سرمایہ کاری، کاروباری،فضاءکو سازگار بنانے کے لئے نظام ٹیکس ، پالیسی میں ہم آہنگی ناگزیر ہے،ڈاکٹر وقار احمد-6365-News

سرمایہ کاری، کاروباری،فضاءکو سازگار بنانے کے لئے نظام ٹیکس ، پالیسی میں ہم آہنگی ناگزیر ہے،ڈاکٹر وقار احمد-6365-News-SDPI

SDPI twitter

News


سرمایہ کاری، کاروباری،فضاءکو سازگار بنانے کے لئے نظام ٹیکس ، پالیسی میں ہم آہنگی ناگزیر ہے،ڈاکٹر وقار احمد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اکتوبر2022ء) پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے نائب سر براہ ڈاکٹر وقار احمد نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ٹیکس مراعات کے غلط استعمال کو روک کر پالیسی میں ہم آہنگی سے مقامی کاروبار میں ترقی ممکن ہے۔اس امر کا اظہار ڈاکٹر وقار احمد نے ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام ایک مقامی ہوٹل میں خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع میں کاروباری فضاءکے موضوع پرپبلک پرائیویٹ مباحثہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ان اضلاع میں بہتر کاروباری صلاحیت موجود ہے جبکہ حکومت کی طرف سے مقامی شعبہ جات میں پائیدار ترقی کے لئے فوری اصلاحات کرے۔ان روایتی زراعت، ٹرانسپورٹ اور گوداموں سمیت تمام شعبوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن سیدغازی غیزان جمال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ گھریلو کاروباری صارفین کو قابل تجدید توانائی کی طرف راغب کرنا چاہئے۔پاکستان میں جرمن سفارتخانے کے کونسلرڈاکٹر سبسطین پاسٹ نے کہاکہ جرمنی پاکستان سے ہنرمندی کے لئے معاونت جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جرمن سرمایہ کارپاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔پشاور چیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹو ممبرعدنان جلیل نے تجویز دی کہ صوبا ئی سطح پر پالیسی سازی میں مقامی تاجر برادری کو مشاورت میں شامل کیا جائے تاکہ ان میں توازن اور پائیدا رترقی ممکن ہو سکے،انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت بڑھانے کے لئے جامع اقدامات اٹھائے جائیں۔اس موقع پر سمیڈا کے سہیل جان نے بتایا کہ انضمام شدہ اضلاع میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے کاروباری برادری کی معاونت کے لئے متعدد منصوبے جاری ہیں۔ سمیڈا نے 40ہزار درخواستوں پر 3 ملین ڈالر کی مالی اعانت فراہم کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں ذرائع مواصلات، بنکاری کے شعبہ سمیت معاون ڈھانچہ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر سیڈ پروگرام کی ماہر معاشیات نازش افراز نے کاروباری سر گرمیوں کے متاثر کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سر گرمیوں میں صرف صحت مند رحجانات کو فروغ دیا جائے۔مالی اہداف کے لئے جائز مراعات اور پالیسیوں میں تسلسل پیدا کیا جائے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ماہراقتصادیات حیدر اسفندیار نے بتا یا کہ متعدد خلیجی ریاستیں خیبر پختونخوا میں سر مایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، اس میں بالخصوس زراعت سے وابستہ گھریلو صنعت اور فوڈ پراسیسسنگ بھی شامل ہیں جب کہ اطالوی کمپنیاں ان مصنوعات کی مارکیٹنگ میں دلچسپی رکھتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ان با صلاحیت علاقوں میں سپیشل اکنامک زون بنا کر سہولیات فراہم کی جائیں۔سرمایہ کاری کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرتے ہوئے محصولات کے نظام میں اصلاحات کی جائیں۔ اس موقع پر خیبر پختونخواریونیو اتھارٹی کے ڈپٹی کلیکٹرفضل کریم نے کہا کہ ان اضلاع میں تجارت کو فروغ دے کر دیگر اضلاع سے بہتر کرنے کے لئے ٹیکس میں مراعات دینے کی سفارشات کی گئیں تاکہ یکساں کاروباری ماحول میسر آ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروبار کو روایتی طریقہ کی بجائے مستند دستاویزاتی کرنا چاہئے۔اس موقع پر یو ایس ایڈ پراجیکٹ ڈائریکٹربرائے اقتصادی ترقی کے ماہر مجاہد سلیم فاروقی نے کہا کہ صحت مند پالیسی سازی اورعمل درآمد میں کمزوری بیرونی سرمایہ کاروں میں حوصلہ شکنی کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اضلاع کے حوالے سے قومی اور صوبائی پالیسی میں ہم آہنگی جی ڈی پی میں اضافہ کا سبب بن سکے گی اور صوبے کا تعاون بھی وفاقی سطح پر ظاہر ہو گا۔اس موقع پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے اہلکارثنا ءخان نے بتایا کہ حکومت پختونخوا کی طرف سے ان اضلاع کے حوالے سے ماسٹر پلان مرتب کیا جا رہا ہے جو کہ یہاں کے کاروباری رحجانات میں اضافہ اورصحت مند ماحول فراہم کرنے میں معاون ہو گا۔ ان اضلاع کے مکینوں کے لئے بہتر روزگار کی سہولیات میسر آنے کے ساتھ لوگوں میں کاروباری رحجانات کا شعور پیدا کیا جائے گا مزید بتایا کہ ہر ممکن رہنمائی کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں ۔ آخر میں اظہار تشکر کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے انجینئر احد نذیر نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی پاکستان کے تمام صوبوں کے اضلاع میں صحت مند تجارتی سر گرمیوں کے لئے مشاورتی عمل جاری رکھے گا۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit