اسلام آباد(صباح نیوز) ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پائیدار معیشت کے حصول کیلئے قابل تجدید توانائی کی منتقلی کی پالیسی میں مثالی تبدیلی لائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تکنیکی مہارت کے فقدان کی وجہ سے گلوبل گرین انرجی ٹرانزیشن فنانس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے ۔ انہو ں نے یہ باتیں یہاںپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے نیٹ ورک فار کلین انرجی ٹرانزیشن کے تحت ”گرین فنانسنگ سمٹ: متبادل اور گرین فنانسنگ میکانزم کے ذریعے توانائی کی منتقلی” کے موضوع پر منعقدہ ورچوئل کانفرنس میں کہیں۔
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ صاف توانائی کی منتقلی پر گفتگو انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ گرین انرجی پر تبدیلی ملک کا پائیدار معیشت کی جانب سفر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گرین انرجی کی طرف منتقلی کے لئے بھاری سرمائے کی ضرورت ہے ۔انرجی یونٹ کے سربراہ عبید الرحمن ضیاء نے این ڈی سی اہداف کے مطابق موجودہ موسمیاتی فنانس منظرنامے اور گرین فنانسنگ کی ضروریات کو بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی سیز کے مطابق الیکٹرک وہیکل (ای وی) سیکٹر کو این ڈی سیز پر مبنی اہداف کے حصول کیلئے نجی شعبے کی جانب سے ایکویٹیز کے ذریعے 48 سے 63 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انویسٹمنٹ بینک آف پنجاب کے سربراہ عمر خان نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں بنیادی طور پر گزشتہ 10 سے 12 سال کے دوران نصف کمی آئی ہے۔ موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کی حکمت عملی کے سربراہ نے کہا کہ بینک عوام بالخصوص خواتین صارفین میں صاف توانائی کے قرضوں کو فروغ دے رہا ہے تاکہ انہیں آب و ہوا کی لچک اور صاف توانائی کے استعمال کو بڑھانے کے لئے پائیدار طریقوں کو اپنانے میں مدد مل سکے۔ انڈس کنسورشیم کے ماجد بلال خان نے مزید کہا کہ ملک کو سبسڈائزڈ فنانسنگ فریم ورک کی ضرورت ہے۔ اس میں شامل کمرشل بینکوں کو ڈیٹا کی شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے اسے سی ایس اوز اور عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہئے۔ میزان بینک کے محبوب عالم نے کہا کہ ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے گرین انرجی ٹرانزیشن اہم ہے۔ ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ پاکستان کے تناظر میں کیپٹل مارکیٹس اور انڈیکس کے کردار پر تبادلہ خیال کر کے مارکیٹ میں سبز انقلاب لا یا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس ڈی پی آئی اور بینکاری ادارے گرین انڈسٹری فنانسنگ کی صلاحیتوں اور وسیع تر خدوخال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے کچھ نیٹ ورکس کے تحت سبز سرمایہ کاروں کو اکٹھا کرسکتے ہیں۔ تیسرے سیشن میں آئی جی ایف سی کی فائزہ نے کہا کہ مرکزی بینک اور ایس ای سی پی کو متعلقہ شعبوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔زونا عثمانی نے کہا کہ پاکستان میں گرین فنانسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھنے والے نجی شعبے اور بین الاقوامی گرین فنانسنگ گروپوں کے درمیان معلومات کی کمی اور خلا ہے۔ا سد محمود نے کہا کہ پاکستان میں حکومت ڈی سینٹرلائزڈ انرجی سسٹم یا بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی تلاش میں ہے ہمیں یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے اور بیٹری انرجی اسٹوریج کی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit