اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 اکتوبر2024ء) جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون (جی آئی زیڈ) اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی ) کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایک اہم پالیسی مکالمہ منعقد ہوا جس میں حکومتی اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جی آئی زیڈ کی صبیحہ بیکر نے پاکستان کی توانائی ضروریات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کا شعبہ نہ صرف روزگار فراہم کرتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا بڑا سبب بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کی ضروریات اور ماحولیات کے تحفظ کے مابین توازن قائم کرنا ہوگا۔حکومتی نمائندے شاہجہان مرزا نے کہا کہ پاکستان کا ہدف 2030 تک قابل تجدید توانائی کا حصہ 53 فیصد تک پہنچانا ہے مگر ترسیلی نظام کو فوری اپ گریڈ کرنا بھی ضروری ہے۔
سابق مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی امین اسلم نے کہا کہ پاکستان کوئلے کے وسیع ذخائر کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد عالمی سطح پر کوئلے سے توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کو اس جانب توانائی کی منتقلی کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہے۔ بدر عالم نےنے قابل تجدید توانائی کے وسائل ہوا اور شمسی توانائی کی طرف منتقلی کی ضرورت پر زور دیا۔ ایس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر خالد ولید نے عالمی موسمیاتی معاہدوں جیسے پیرس معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے توانائی شعبے کو جلد از جلد کاربن سے پاک کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ بین الاقوامی تجارتی پابندیوں اور صارفین کی مانگ میں اضافے کا مقابلہ کیا جا سکے۔نسٹ کے پروفیسر ڈاکٹر مجید نے کہا کہ کوئلہ گیسفیکیشن ایک ممکنہ حل ہو سکتا ہے تاہم اس حوالے سے پانی کے استعمال پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit