الیکٹرک وہیکلز سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین-8743-News

الیکٹرک وہیکلز سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین-8743-News-SDPI

SDPI twitter

News


الیکٹرک وہیکلز سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، ماہرین

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 دسمبر2024ء) الیکٹریکل وہیکلز پاکستان کا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں اس سے ملکی معیشت پر بوجھ میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ بات پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام الیکٹرک گاڑیاں اور اقتصادی ترقی کے موضوع پر ایک گول میزکانفرنس میں صنعت کے ماہرین اورسٹیک ہولڈرز نے کہی۔اس موقع پر پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے مستقبل اور اقتصادی ترقی میں ان کے کردار پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا کیا گیا۔ ایس ڈی پی آئی کے احد نذیر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے ای وی ( EV) اپنانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کے درمیان مضبوط تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ EV شعبہ سے اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع کے لئے بڑی امیدیںوابستہ ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایک ایساجامع منصوبہ تیار کریں جس میں انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہو ۔PRIED کی رمشہ ریحان نے اس بات پر زور دیا کہ EVs کے مو ثر انضمام کے لئے ایک خاص توانائی پالیسی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ EVs کو زیادہ قابل رسائی بنانے کےلئے بہتر پالیسی کی حمایت کی جائے۔ ایس ڈی پی آئی کے توانائی یونٹ کے سربراہ انجینئر عباد الرحمان ضیاءنے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ڈی کاربونائزیشن کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے جس سے EVs کی ترقی کو فروغ ملے گا۔REMIT کے لیڈ ایڈوائزراسامہ خان نے خاص طور پر دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور تیل کے درآمدی بل کی کمی کے حوالے سے بات کی۔کانفرنس میں ماہرین نے EV مارکیٹ کے چیلنجز پر بھی بات کی، جن میں صارفین کی آگاہی کی کمی اور مالی امداد کی ضرورت بھی شامل ہے۔ صنعتی رہنمائوں نے EV کی پوری ویلیو چین پر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اس کی کامیاب منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔انجینئر اسد محمود نے EV خریداری کے حوالے سے صارفین میں پائی جانے والی الجھن اور مالی امداد کی ضرورت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ صارفین اور بینکاروں کے درمیان علم کا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فرق کو دور کرنے کےلئے مقامی سطح پر آگاہی مہمات کی ضرورت ہے۔اس موقع پرڈاکٹر بشارت حسن اورصنعت کے رہنما حماد بشیر نے EV کی ویلیو چین، پیداوار سے لے کر فنانسنگ تک، کو مدنظر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔کانفرنس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت، صنعت اور مالی اداروں کے درمیان ایک مضبوط تعاون ضروری ہے تاکہ EV ماحولیاتی نظام کی کامیاب ترقی ممکن ہو سکے، اور اس شعبے کو پاکستان میں اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور ماحولیاتی پائیداری کے لئے ایک اہم محرک بنایا جا سکے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit