اسلام آباد(صباح نیوز ) پاکستان، جرمنی اور آذربائیجان کے ماہرین اور صنعتکاروں نے ایک اعلیٰ سطح کے علاقائی مکالمے میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سیمنٹ صنعت کو کاربن کے اثرات سے پاک بنانے کے لئے فوری اقدامات وقت کی ضرورت ہیں کیونکہ یہی صنعت اب ماحولیاتی تبدیلی کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔یہ مکالمہ پاک جرمن کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ کے زیرِ اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے اشتراک سے ہوا جس میں پاکستان، جرمنی اور آذربائیجان سے 80 سے زیادہ صنعتکار، پالیسی ساز اور ماہرینِ شریک ہوئے۔اس فورم میں صاف توانائی کے استعمال میں پیش رفت اور اس راہ میں حائل پالیسی و مالیاتی رکاوٹوں کو اجاگر کیا گیا جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
مقررین نے کہا کہ جس سیمنٹ کی صنعت سے ہمارے شہر تعمیر ہوئے وہی اب ہمارے ماحولیاتی مستقبل کے لئے خطرہ بن چکی ہے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔ اے پی سی ایم اے کے نمائندے سید نعمان حسن نے کہاکہ گزشتہ پانچ برسوں میں 80 سے 90 فیصد سیمنٹ ساز اداروں نے توانائی کے ایسے نظام اپنا لیے ہیں جو کم ایندھن خرچ کرتے ہیں اور کم کاربن خارج کرتے ہیں۔مقامی سیمنٹ ادارے سے وابستہ ڈاکٹر عارف بشیر نے متبادل ایندھن اور ویسٹ ٹو انرجی نظام کی کامیاب تنصیب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے 40 سے 50 فیصد تک کاربن فْٹ پرنٹ میں کمی آئی ہے تاہم ساختی چیلنجز اب بھی حائل ہیں۔ احسن انیس نے کہا کہ پاکستان ہر سال 12 کروڑ 60 لاکھ ٹن زرعی فضلہ پیدا کرتا ہے مگر مؤثر ویلیو چینز کی عدم موجودگی کے باعث یہ مکمل طور پر استعمال نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم مکمل طور پر بایوماس پر منتقل ہو جائیں تو کوئلے کا استعمال ختم ہو سکتا ہے، 30 ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اور درآمدات میں 93 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔ ایس ڈی پی آئی کی سربراہ برائے کاربن کمی، صالحہ قریشی نے پاکستان کی سیمنٹ صنعت پر مبنی پہلی جامع تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج پیش کئے۔ صالحہ قریشی نے کہا کہ کلنکر کی جگہ دیگر مواد کے استعمال سے کم لاگت میں اخراج میں نمایاں کمی ممکن ہے، مگر اس میں پالیسی اور سرمایہ کاری کی رکاوٹیں شدید نوعیت کی ہیں۔جرمن ماہر مارٹن شنائیڈر نے VDZ کی نمائندگی کرتے ہوئے جرمنی کے مربوط، مگر رضاکارانہ، نظام کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری خریداری کو کم کاربن سیمنٹ کی فراہمی سے مشروط کر دیا جائے تو مارکیٹ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔آذربائیجان سیمنٹ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے نمائندے ہیننگ ساسے نے COP29 کے بعد آذربائیجان کی نئی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ آذربائیجان اپنے قدرتی گیس کے ذخائر اور زیرِ زمین کاربن ذخیرے کے لئے قدرتی مواقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA) کے احمد نوید نے حکومت کے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ SQCA اور ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کلنکر تناسب میں کمی اور توانائی معیار کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے۔وزارتِ تجارت کے نیشنل کمپلائنس سینٹر سے ڈاکٹر شہباز علی خان نے ٹیکنیکل مہارت کے خلا کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی وزارت یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم (CBAM) کے لیے مقامی صنعتوں کو تیار کر رہی ہے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔پاکـجرمن کلائمیٹ اینڈ انرجی پارٹنرشپ میں GIZ کی مشیر صبیحہ بیکر نے کہا کہسبز سیمنٹ اب ایک نظریاتی تصور نہیں رہا بلکہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ جرمنی اور آذربائیجان کے تجربات بتاتے ہیں کہ سیمنٹ کی ڈیکاربنائزیشن تکنیکی طور پر ممکن اور معاشی طور پر فائدہ مند ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit