ماحولیاتی فنڈز کے گرد گھومتی ہیں، عملی اقدامات کی ضرورت پالیسی سازی کو قومی ضرورتوں اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے تابع کیا جائے، ایس ڈی پی آئی میں خطاب اسلام آبادپائیدار ترقی کے عالمی شہرت یافتہ ماہر، سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پالیسی ادارہ برائے پائیدارترقی کے بانی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی بحران کے شدید خطرات کے باوجود اب تک نمائشی اعلانات اور گاہک پرور پالیسیوں سے آگے نہیں بڑھ سکااب ا وقت آ گیا ہے کہ پالیسی سازی کو قومی ضرورتوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے تابع کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی سازی کو قومی ضرورتوں اور طویل مدتی حکمتِ عملی سے نہ جوڑا گیا تو ملک ماحولیاتی بحران کے سامنے بے بس ہو جائے گا۔ اب واحد راستہ یہ ہے کہ ادارے مضبوط کیے جائیں، تحقیق و تعلیم میں سرمایہ کاری ہو اور پالیسیوں کو بقا کیلئے استعمال کیاجائے۔ایس ڈی پی آئی میں ”قدرتی آفات، ماحولیاتی تبدیلی اور پالیسی ردِعمل“ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے نمائشی اعلانات اور بین الاقوامی فنڈز پر انحصار کے بجائے قومی ضروریات پر مبنی پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جسے آئی پی سی سی نے ماحولیاتی تبدیلی کے ناقابلِ واپسی عہد کا نام دیا ہے جس کیلئے عمل کا وقت مختصر اور تیزی سے کم ہو رہا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ قومی ماحولیاتی پالیسی (2012) اس کا نفاذی فریم ورک (2013) اور ماحولیاتی تبدیلی ایکٹ (2017) جیسے اقدامات کے باوجود پاکستان اب تک کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ پالیسیوں کا ڈھانچہ ”ایک ردِعملی فہرست“ ہے جو حادثات کے دباو پر بنتی ہے، مربوط حکمتِ عملی پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسیاں مخصوص فائدوں اور بین الاقوامی ماحولیاتی فنڈز کے گرد گھومتی ہیں عملی اقدامات کے گرد نہیں۔ڈاکٹر بنوری نے کہا کہ ادارہ جاتی صلاحیت اور افرادی قوت کے معیار کی کمی، بدعنوانی اور کمزور احتساب پالیسیوں کے نفاذ کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔چین کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ”مقصد پر مبنی“ پالیسی اپروچ اختیار کرنا ہوگی۔ چین نے تحقیق پر بھاری سرمایہ کاری، قابلِ تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کی صنعت کے لیے سبسڈی اور ادارہ جاتی ترقی پر توجہ دی۔تقریب میں وزیراعظم کے چیف کوآرڈینیٹر برائے گورنمنٹ پرفارمنس اینڈ انویشن مشرف زیدی نے کہا کہ پالیسی سازی عوام کی جان، روزگار اور عزت کے تحفظ پر مبنی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ فریم ورک کی کمی نہیں بلکہ ایسے ادارے قائم نہ کرنا ہے جو نچلی سطح پر نتائج دے سکیں۔لیکچر کے اختتام پر اڈاکٹر طارق بنوری نے کہا کہ ملک کو آزاد اور مضبوط ادارے قائم کرنے، تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری کرنے اور قلیل مدتی سودے بازی کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی اپنانے کی ضرورت ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit