اسلام آباد(صباح نیوز)پائیدار ترقی کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ڈاکٹر طارق بنوری نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا درجہ حرارت دنیا کے اوسط اضافے سے ایک ڈگری زیادہ بڑھے گا اور اگر پالیسی سازی کا موجودہ رویہ برقرار رہا تو ملک بقا اور خوشحالی کی جنگ ہار سکتا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ پاکستان کو ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے نمائشی پالیسیوں اور بین الاقوامی فنڈز پر انحصار کے بجائے مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات اور طویل مدتی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی ورنہ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
وہ یہاں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(ایس ڈی پی آئی) میں”قدرتی آفات، ماحولیاتی تبدیلی اور پالیسی ردِعمل” کے موضوع پر معلوماتی لیکچر دے رہے تھے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اْن دس ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اْس دور میں داخل ہو رہے ہیں جسے آئی پی سی سی نے ماحولیاتی تبدیلی کے ناقابلِ واپسی عہد کا نام دیا ہے جس میں عمل کا موقع مختصر اور وقت بہت کم ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ ماحولیاتی پالیسیوں کے عشروں پر محیط سلسلے کے باوجود پاکستان کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے ملک کے پالیسی ڈھانچے کو ”ایک ردِعملی فہرست” قرار دیا جو مربوط حکمتِ عملی کے بجائے محض حادثات کے ردِعمل میں تیار کی جاتی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پالیسیاں گاہک پروری پر مبنی ہیں جوعملی اقدامات کے بجائے مخصوص فائدوں اور بین الاقوامی ماحولیاتی فنڈز کے گرد گھومتی ہیں۔ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا کہ ادارہ جاتی صلاحیت اور افرادی قوت کے معیار کی زبوں حالی، بدعنوانی اور کمزور احتساب نے نفاذ کو مفلوج کر رکھا ہے۔ ان ہوں نے مذید کہا کہ غیر مربوط مگر بامقصد اقدامات، جیسے این ڈی ایم اے کا نظام، بلین ٹری سونامی، ماس ٹرانزٹ منصوبے، قابلِ تجدید توانائی کا فروغ اور محکمہ موسمیات کی مضبوطی نے بلاشبہ کردار ادا کیا ہے لیکن انہیں ایک قومی فریم ورک میں ضم نہیں کیا جا سکا۔
چین کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے ”مقصد پر مبنی” پالیسی اپروچ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہہ میں چین کے اسباق سے سیکھنا چاہئے ۔معروف پالیسی تجزیہ کار مشرف زیدی نے گفتگو میں کہا کہ پالیسی سازی کی بنیاد عوام کی جان، روزگار اور عزتِ نفس کے تحفظ پر ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ فریم ورک کی کمی نہیں بلکہ ایسے ادارے قائم نہ کرنا ہے جو نچلی سطح پر نتائج دے سکیں۔علاقائی ماڈلز سے متعلق سوال پر ڈاکٹر بنوری نے بنگلہ دیش کی ”سیلاب کے ساتھ جینے” کی حکمتِ عملی کی مثال دی اور کہا کہ پاکستان کو بھی ایسے عملی اور شمولیتی اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔لیکچر کے اختتام پر انہوں نے پْرزور انداز میں کہا کہ پاکستان کو آزاد اور مضبوط ادارے قائم کرنے، تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری کرنے اور قلیل مدتی سودے بازی کے بجائے طویل مدتی لچکدار منصوبہ بندی اپنانے کی ضرورت ہے ہمیں پالیسیوں کو محض آرائشی نہیں بلکہ ہمیں انہیں بقا اور خوشحالی کے ہتھیار کے طور پراختیار کرنا ہوگا ۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Design & Developed by NKMIS WEB Unit