پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کی چار روزہ 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس 2 سے 5 نومبر تک علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’آج کی ترقی میں رکاوٹ پر غور وفکرر‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ چوتھی پائیدار سرمایہ کاری نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی کےلئے خیالات، سرمایہ کاری اور عملی اقدامات کو یکجا کرنا ہے۔ پروگرام کے مطابق کانفرنس کی افتتاحی تقریب پیر، 2 نومبر کو صبح 9 بج کر 30 منٹ پروزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے اشتراک سے ہوگا ۔ پروگرام کے مطابق وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال مہمانِ خصوصی ہوں گے جبکہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر راشد المہ محمود تیتومیر مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کریں گے ۔ صبح 11 بج کر 30 منٹ پر پائیداری سرمایہ کاری نمائش کے اعزازی اجلاس سے قبل افتتاحی تقریب منعقد ہوگی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن محترمہ شزہ فاطمہ خواجہ مہمانِ خصوصی ہوں گی۔ تقریب میں سات مختلف شعبوں میں پائیداری ایوارڈز دیئے جائیں گے، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے، سرکلر اکانومی (وسائل کے دوبارہ استعمال پر مبنی معیشت)، ڈیجیٹل جدت، صاف توانائی اور تحقیق کو عملی نتائج میں بدلنے جیسے شعبے شامل ہیں۔ اسی موقع پر او آئی سی سی آئی کی ایک رپورٹ بھی جاری کی جائے گی۔سہ پہر بوسٹن یونیورسٹی کے پارڈی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے ڈین ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم ’’موسمیاتی اقدامات کو مؤثر بنانا: عملی نفاذ کے لئے ترجیحات اور تجاویز‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور سدرن وائس کے اشتراک سے ماحولیات کی صورتِ حال سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی جائے گی۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق دنیا اس وقت جغرافیائی و سیاسی تنازعات، موسمیاتی آفات، معاشی تقسیم اور عالمی تعاون کے کمزور پڑتے ہوئے نظام جیسے سنگین چیلنجوں سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں رواں سال کی کانفرنس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کا محض جائزہ لینے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر گفتگو تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ترقی کے تصور کو بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے مذید کہا کہ آج ترقی کا مفہوم صرف معاشی پیش رفت تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جو معاشروں کو بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے، خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرے اور غیر یقینی حالات میں بھی انسانی فلاح و بہبود کو برقرار رکھ سکے۔کانفرنس میں معیشت، ماحولیات اور سماجی مساوات کے تین بنیادی شعبوں کے تحت ترقیاتی مالیات، قرضوں، توانائی، آبی تحفظ، زراعت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تجارت اور علاقائی تعاون پر غور کیا جائے گا۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit