پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیرِ اہتمام 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس (ایس ڈی سی) 2 سے 5 نومبر 2026 تک اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔1995سے ہر سال ہونے والی اس کانفرنس کا شمار دنیا بھر میںعلمی و فکری اور پالیسی مباحثوں میں ہوتا ہے۔ کانفرنس میں ہر سال دنیا بھر سے محققین، پالیسی ساز، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائیندہ افراد ترقی اہم مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اس کانفرنس ذریعے ماحول دوست معیشت، طرزِ حکمرانی، ڈیجیٹل تبدیلی، امن، استحکام اور عالمی آفات جیسے بحرانوں سمیت متعدد موضوعات پر علمی مکالمے کے ذریعے پالیسی سازی میں معاونت فراہم کی ہے۔
اس سال کانفرنس کا موضوع ’’ آج کی ترقی میں رکاوٹ پر غور وفکر ‘‘ ہے۔ یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب دنیا جغرافیائی سیاسی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، معاشی تقسیم،
ٹیکنالوجی کے تیز رفتار ارتقا اور علاقائی ممالک میں عدم تعاون جیسی پیچیدہ مشکلات نے ترقی کے روایتی تصورات پر نئے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی کے مقاصد، ترجیحات اور طریقہ کار پر ازسرِنو غورناگزیر ہے اور یہ سمجھا جائے کہ ممالک اپنی پالیسیوں میں خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مسائل کا حل کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، روس اور یوکرین کی جنگ اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور رسد کے عالمی گزرگاہوں میں رکاوٹیں مہنگائی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو متاثر کر رہی ہیں۔ دوسری جانب موسمیاتی تعاون اور ترقیاتی و اقتصادی معاونت سے متعلق عالمی وعدوں سے گریز نے بین الاقوامی تعاون کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ان حالات میں ترقی کو محض پہلے سے طے شدہ اہداف کے حصول کا عمل نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کےلئے ایسے معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی نظام میں فوری اصلاحات درکار ہیں جو بحرانوں کا مقابلہ کرنے، خطرات سے نمٹنے اور بدلتے حالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں تاکہ انسانی فلاح و بہبود کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
ترقی کے اس نئے تصور کی بنیاد اس کے تین بنیادی ستونوں، یعنی معیشت، ماحول اور مساوات پر استوار ہو۔ یہ تینوں شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ عالمی معیشت قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ، ٹیکنالوجی تک غیر مساوی رسائی اور تجارت و سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات سےترقی پزیر اور غریب ممالک بری طرھ متاثر ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی ماحول کی تباہی خطرات اور غربت میں اضافہ کر رہی ہیں جبکہ سماجی ناہمواری، نقل مکانی اور بنیادی سہولتوں تک غیر مساوی رسائی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ کانفرنس میں ایسی پالیسیوں پر غور کیا جائے گا جو معاشی استحکام، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی انصاف کو یکجا کر سکیں۔
پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) پر پیش رفت کے جائزے سے آگے بڑھتے ہوئے کانفرنس سالانہ پائیدار ترقی مستقبل کی ترقیاتی میں معاونت کا ایک قدم ہے۔ اس ضمن میں ترقیاتی مالیات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی کیونکہ مالی وسائل کی دستیابی کے بغیر معاشی تبدیلی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے اہداف حاصل کرنا دشوار ہے۔ بڑھتے ہوئے قرضے، رعایتی مالی معاونت میں کمی اور معاشی بے یقینی نے حکومتوں کی سرمایہ کاری کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔
کانفرنس میں ملکی وسائل کو متحرک کرنے، مالی معاونت کے نئے ذرائع تلاش کرنے، قرضوں کے بوجھ میں کمی، سرکاری و نجی سرمایہ کاری کو یکجا کرنے اور نجی و فلاحی شعبوں کے سرمائے سے فائدہ اٹھانے پر غور کیا جائے گا۔ عالمی مالیاتی نظام میں موجود ناہمواریوں کا جائزہ لیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور فیصلہ سازی میں ان کے کردار کو مؤثر بنانے کے امکانات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
علاقائی تناظر میں جنوبی ایشیا کے عالمی مشترکہ وسائل کے تحفظ کو اہمیت دی جائے گی۔ صاف ہوا، سرحد پار آبی وسائل اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے لئے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ فضائی آلودگی اور پانی کی قلت کے پیشِ نظر ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، مشترکہ نگرانی اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ دینا ضروری ہے۔
بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے گرمی سے مطابقت رکھنے والی معیشت کی اہمیت بھی اجاگر کی ہے۔ اس میں گرمی برداشت کرنے کے قابل بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ شہری منصوبہ بندی، پیشگی انتباہ کے نظام، ٹھنڈک کی جدید ٹیکنالوجیز اور محنت کشوں کے تحفظ کے اقدامات شامل ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے ذریعے یہ شعبہ ماحولیاتی خطرات کم کرنے کے ساتھ روزگار، جدت اور صحتِ عامہ میں بہتری کے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔
ترقی کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کانفرنس صحت، تعلیم، ہنرمندی، سماجی تحفظ، مؤثر قیادت اور شہری شرکت کی اہمیت پر بھی توجہ دے گی۔ اس ضمن میں انفرادی ترقی کے اہداف (IDGs) کا تصور سوچ میں مثبت تبدیلی، اخلاقی قیادت اور ذمہ دارانہ رویّوں کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے۔ انفرادی شعور اور اجتماعی ذمہ داری کو ترقیاتی پالیسیوں سے مربوط کرنا زیادہ جامع اور انسان دوست ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
کانفرنس میں تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور بحالی بھی زیرِ بحث آئے گی۔ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، مشرقی یورپ اور افریقہ کے بعض حصوں میں تنازعات نے معاشی و سماجی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پائیدار بحالی کا تقاضا صرف عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیرِ نو نہیں بلکہ روزگار کی بحالی، بنیادی خدمات کی فراہمی، سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی معاشی ترقی کےلئے مضبوط بنیادیں استوار کرنا بھی ہے۔ کانفرنس میں اس امر کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ نقل مکانی، کمزور اداروں اور موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں میں بحالی کے اقدامات کو مؤثر منصوبہ بندی اور پائیدار مالی وسائل کے ذریعے کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
عالمی تعاون کے نئے طریقوں میں محدود دائرے پر مبنی بین الاقوامی تعاون کو بھی اہمیت حاصل ہوگی۔ اس سے مراد ایسے چھوٹے اور لچک دار اتحاد ہیں جن میں چند ممالک یا ادارے موسمیاتی مالیات، توانائی کی منتقلی اور تجارتی راہداریوں جیسے مخصوص مسائل کے حل کے لئے مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ طریقہ تعاون بالخصوص عالمی جنوب کے ممالک کو مشترکہ مسائل کے عملی حل اور علاقائی شراکت داری کے نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
اسی مقصد کے تحت کانفرنس میں ’’گلوبل ساؤتھ سلوشنز ودآؤٹ بارڈرز‘‘ (GS-SWB) پلیٹ فارم کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ پلیٹ فارم پالیسی سازوں، محققین، ماہرین اور جدت طرازوں کو یکجا کرکے موسمیاتی موافقت، ڈیجیٹل شمولیت، غذائی نظام اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں علم کے تبادلے اور مشترکہ حل کو فروغ دے گا۔ آزمائشی منصوبوں، پالیسی رہنما اصولوں، مالی شراکت داریوں اور ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کے ذریعے اس کانفرنس کا مقصد خیالات کو قابل عمل بنانے میںمشاورت و معاونت فراہم کرنا ہے۔
ٹیکنالوجی کانفرنس کے تمام موضوعات میں ایک مرکزی حیثیت رکھے گی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تجارت اور معلوماتی نظام معیشت اور طرزِ حکمرانی کو نئی جہت دے ہے۔ ان سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، تاہم روزگار پر اثرات، نجی معلومات کے تحفظ اور مؤثر ضابطہ سازی جیسے مسائل بھی اہم ہیں۔ کانفرنس میں نئی اور دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری سے بروئے کار لانے پر غور کیا جائے گا تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، عوامی خدمات بہتر بنیں اور ٹیکنالوجی کے ثمرات معاشرے کی ہر سطح تک پہنچ سکیں۔
، یہ کانفرنس ترقی کے بارے میں سوچ اور طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مقصد موجودہ پالیسیوں اور طریقہ کار کا حقیقت پسندانہ رحجانات کا جائزہ لینا، غیر مؤثر حکمتِ عملیوں پر نظرِثانی کرنا اور مستقبل کے لئے قابلِ عمل راستے تلاش کرنا ہے۔ پالیسی سازوں، محققین، سول اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے کانفرنس ترقی کے ایسے جامع تصور کو فروغ دینا چاہتی ہے جس میں معاشی استحکام، ماحولیاتی تحفظ، سماجی انصاف اور انسانی وقار کو یکساں اہمیت حاصل ہو۔ اس طرح بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نہ صرف بحرانوں کا مقابلہ کرنے بلکہ ایک زیادہ محفوظ، منصفانہ اور خوش حال مستقبل کی تعمیر کے امکانات بھی روشن کئے جا سکتے ہیں۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit