پاکستان، بنگلہ دیش کا پرانے عالمی مالیاتی نظام کے بجائے نئے معاشی ڈھانچے پر زور1.1-11668-News

پاکستان، بنگلہ دیش کا پرانے عالمی مالیاتی نظام کے بجائے نئے معاشی ڈھانچے پر زور1.1-11668-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


پاکستان، بنگلہ دیش کا پرانے عالمی مالیاتی نظام کے بجائے نئے معاشی ڈھانچے پر زور1.1

Calendar 02 Nov,2026

 اسلام آباد(۔   )  پاکستان اور بنگلہ دیش نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی، ماحولیاتی اور تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے موجودہ عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، نئے معاشی ڈھانچے کی تشکیل اور علاقائی تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے روایتی تصورات اب بدلتے عالمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزرا پروفیسر احسن اقبال، وفاقی وسیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر راشد المحمود تیتومیر اور دیگر مقررین نے 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس (ایس ڈی سی) کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا اہتمام پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے اشتراک سے کیا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی مالیاتی نظام آج ترقی پذیر ممالک کے قرضوں، موسمیاتی تباہ کاریوں اور معاشی ضروریات کا حل فراہم کرنے میں ناکام ہے، اس لئے اس کی ازسرنو تشکیل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب سے پاکستان میں تقریباً تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور نقصانات 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے لیکن پاکستان کو نئی مالی امداد کے بجائے موجودہ قرضوں کے استعمال کی تجاویز دی گئیں۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے اس کے باوجود وہ موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر اور 2047 تک تین ہزار ارب ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے لئے برآمدات، اڑان پاکستان پروگرام اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سائبر سکیورٹی اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں پیش رفت کو بھی انہوں نے مستقبل کی ترقی کےلئے اہم قرار دیا۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ترقی کا روایتی ماڈل، جس میں قرض لے کر صنعتیں قائم کی جاتی تھیں اور بعدازاں خدمات کے شعبے کی طرف پیش رفت ہوتی تھی، اب اپنی سابقہ افادیت کھو چکا ہے۔ پاکستان تقریباً 16 ہزار ارب روپے محصولات جمع کرتا ہے جن میں سے آٹھ ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مزید قرضوں کے بجائے ایکویٹی کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ موسمیاتی آفات کے تناظر میں انہوں نے مؤثر پیشگی اطلاع کے نظام، محنت کشوں کو شدید گرمی سے تحفظ اور ٹھنڈک فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ورچوئل گرین یونیورسٹی، گرین کلاؤڈ اور گرین فیلڈ ایکویٹی فنڈ کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کی پرانی سیڑھی ختم ہو چکی ہے، اب آگے بڑھنے کےلئے نیا پل تعمیر کرنا ہوگا۔بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر راشد المحمود تیتومیر نے کہا کہ عالمی معیشت، جغرافیائی سیاست، ٹیکنالوجی، قومی سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سے گہرے طور پر منسلک ہو چکے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو معاشی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ متنوع شراکت داری قائم کرنی چاہئے۔ انہوں نے تعلیم پر اخراجات بنگلہ دیش کی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد سے بڑھا کر 2030 تک پانچ فیصد کرنے کے ہدف کا ذکر کیا اور پاکستان و بنگلہ دیش کے درمیان تعاون کو پورے جنوبی ایشیا کے لیے مثبت مثال قرار دیا۔ایس ڈی پی آئی کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سفیر شفقت کاکاخیل نے کہا کہ 1995 سے منعقد ہونے والی یہ کانفرنس پالیسی سازوں، ماہرین اور محققین کو مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے جبکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ترقیاتی حکمت عملیوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی رکاوٹوں، توانائی کی بڑھتی قیمتوں، زرعی پیداوار میں کمی اور ترقیاتی امداد میں کمی کو اہم عالمی چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیائی ممالک پر زور دیا کہ فضائی آلودگی، سرحد پار دریاؤں اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے، مشترکہ نگرانی اور پیشگی اطلاع کے نظام کو فروغ دیں۔ انہوں نے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ’’آمادہ ممالک کے اتحاد‘‘ کے قیام کی تجویز کی حمایت بھی کی۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ بحران اور غیر یقینی اب ترقیاتی منصوبہ بندی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ تعلیم کو بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی بنیادی قوت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعات کو پالیسی سازی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور ترقی

 کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچنے چاہئیں۔چار روزہ کانفرنس کے ساتھ چوتھی پائیدار سرمایہ کاری نمائش بھی منعقد کی جا رہی ہے جس میں جدید اختراعات، سرمایہ کاری کے مواقع، تربیتی سرگرمیوں اور کاروباری و حکومتی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ کانفرنس میں پاکستان سمیت بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، سری لنکا، یورپ، شمالی امریکا اور آسٹریلیا سے 200 سے زائد مقررین، ماہرین اور پالیسی ساز شریک ہو رہے ہیں

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit