پاکستان کو موسمیاتی اہداف کے لیے سالانہ 50 ارب ڈالر درکار، مالی وسائل کی کمی قومی ماحولیاتی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، ڈینش سفیر 1.2-11669-News

پاکستان کو موسمیاتی اہداف کے لیے سالانہ 50 ارب ڈالر درکار، مالی وسائل کی کمی قومی ماحولیاتی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، ڈینش سفیر 1.2-11669-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


پاکستان کو موسمیاتی اہداف کے لیے سالانہ 50 ارب ڈالر درکار، مالی وسائل کی کمی قومی ماحولیاتی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، ڈینش سفیر 1.2

Calendar 02 Nov,2026

اسلام آباد پاکستان کو اپنے موسمیاتی اہداف حاصل کرنے کےلئے سالانہ تقریباً 50 ارب ڈالر درکار ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائ ترقیاتی بجٹ مجموعی طور پر تقریباً 15 ارب ڈالر ہیں۔ مالی وسائل میں یہ بڑا فرق ملک کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ کی صلاحیت کےلئے سنگین خطرہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار کاروباری رہنماؤں نے پیر کو چوتھی پائیدار سرمایہ کاری نمائش کے موقع پر کیا جس کا انعقاد 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے ساتھ کیا گیا۔ اس موقع پرپاکستان میں ڈنمارک کی سفیر اوراوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے صدر عمر احسن خان  بھی موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ڈنمارک کی سفیر مورٹنسن نے کہا کہ ڈنمارک نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی کے ساتھ اپنی معیشت کو بھی ترقی دی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ معاشی نمو اور ماحولیاتی تحفظ ایک ساتھ ممکن ہیں۔ انہوں نے ماحول دوست معیشت کی طرف منتقلی کو مسابقت بڑھانے کا اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی بچت ’’پہلا ایندھن‘‘ اور سب سے سستا ایندھن ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور گرین ٹرانزیشن کے شعبوں میں 60 سے زیادہ ڈنمارک کی کمپنیاں سرگرم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں اور اختراع کاروں پر زور دیا کہ وہ نمائش کے ذریعے بین الاقوامی مہارت، سرمایہ کاری اور شراکت داری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے منصوبوں کو عملی شکل دیں۔اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے صدر عمر احسن خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اگرچہ عالمی چیلنج ہے تاہم پاکستان کے لئے یہ درحقیقت ایک ’’وجودی بحران‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے چیمبر کی رپورٹ ’’کلائمیٹ ایکسیلیریشن: فرام کمٹمنٹ ٹو کمپیٹیٹو ایج اِن اے ڈیسیسو ڈیکیڈ‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 2035 تک 550 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری درکار ہوگی جسے صرف سرکاری وسائل سے پورا کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے ترقیاتی بجٹ میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران کمی آئی ہے اس لئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے اصل مسئلہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ قابلِ سرمایہ کاری اور منافع بخش منصوبوں کی عدم دستیابی ہے۔ انہوں نے منصوبوں کی تیاری، ادارہ جاتی صلاحیت اور فیصلوں کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا اور کہا کہ عالمی ترقیاتی شراکت دار ضمانتوں، رعایتی مالی معاونت اور کرنسی کے خطرات سے تحفظ کے ذریعے مدد فراہم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ کمزور آبادیوں کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری جیسے منصوبوں کے لئے سرکاری وسائل اور گرانٹس ضروری رہیں گے کیونکہ ایسے اقدامات سے ہمیشہ براہِ راست مالی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے پانی کی قلت، سیلاب، شدید گرمی، زرعی پیداوار میں خلل اور ساحلی کٹاؤ کو پاکستان کے اہم موسمیاتی خطرات قرار دیا۔ انہوں نے یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈیوں میں مصنوعات کے کاربن اخراج اور سپلائی چین کی شفافیت سے متعلق تقاضے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے گرین ٹیکسانومی، کلائمیٹ بجٹ ٹیگنگ، خودمختار گرین سکوک اور پاکستان کے پہلے پائیدار پانڈا بانڈ کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کاروباری اداروں کی جانب سے ماحولیاتی اقدامات کی شفاف رپورٹنگ یقینی بنانا ہوگی اور گرین واشنگ سے گریز کرنا ہوگا۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ یہ تصور اب غلط ثابت ہو چکا ہے کہ کاروباری اداروں کو ماحول دوست پالیسیوں اور منافع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست توانائی استعمال کرنے والی کمپنیاں روایتی توانائی پر انحصار کرنے والے اداروں سے زیادہ منافع حاصل کر رہی ہیں کیونکہ قابلِ تجدید توانائی نسبتاً سستی اور قابلِ اعتماد ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روایتی توانائی کی فراہمی بھی عالمی جغرافیائی سیاسی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ڈاکٹر سلہری نے کہا کہ یورپی یونین کے کاربن بارڈر میکانزم جیسے تجارتی اقدامات صنعتوں کو ماحول دوست پیداواری طریقے اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ جرات مندانہ فیصلے کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے جبکہ سرکاری اداروں کے افسران ناکامی کی صورت میں ملازمتوں کو لاحق خطرات کے باعث عموماً بڑے فیصلوں سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نمائش کے دوران ملکی اور بین الاقوامی کمپنیاں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گی۔ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے گرین انڈسٹریلائزیشن کے حوالے سے ایس ڈی پی آئی کے کام میں ڈنمارک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود مالی وسائل رکھنے والے ممالک بھی تکنیکی اور اخلاقی معاونت کے ذریعے نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔تقریب کے دوران ایس ڈی پی آئی کی کتاب ’’ایمرجنگ ورلڈ ڈس آرڈر میں پائیدار ترقی‘‘ اور ایچ ای سی سے منظور شدہ جرنل آف ڈویلپمنٹ پالیسی، ریسرچ اینڈ پریکٹس کی دسویں جلد بھی جاری کی گئی۔ پائیدار ترقی کانفرنس کی ڈائریکٹر عظمٰی ہارون نے تقریب کی میزبانی کی جبکہ نمائش میں پائیدار ترقی کے عملی منصوبوں پر کام کرنے والے اداروں کو ایوارڈز بھی دیئے گئے۔(

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit