ایک کے بعد ایک آفت ’’بحالی: تعمیرِ نو کا وقت سکڑ رہا ہے، شیری رحمٰن کا انتباہ 1.3-11670-News

ایک کے بعد ایک آفت ’’بحالی: تعمیرِ نو کا وقت سکڑ رہا ہے، شیری رحمٰن کا انتباہ 1.3-11670-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


ایک کے بعد ایک آفت ’’بحالی: تعمیرِ نو کا وقت سکڑ رہا ہے، شیری رحمٰن کا انتباہ 1.3

Calendar 03 Nov,2026

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی آفات کے ایک ایسے ’’بحالی کے چکر‘‘ میں پھنس چکا ہے جہاں ایک تباہی سے نکل کر دوبارہ تعمیرِ نو کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی دوسری آفت آ جاتی ہے۔ موسمیاتی تباہ کاریوں کے درمیان وقفہ مسلسل کم ہو رہا ہے اور ملک کو سنبھلنے کےلئے پہلے سے بھی کم وقت مل رہا ہے۔29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے تحت ’’موسمیاتی اقدامات کو مضبوط بنانے‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مکمل اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2005، 2010 اور 2022 کے سیلابوں کے بعد بحالی کیلئے  دستیاب وقت بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ 2025 کے دریائی سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر موسم گرما میں کسی نہ کسی بڑی قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 2022 میں پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب آ گیا تھا۔شیری رحمٰن نے موجودہ دور کو ایک فیصلہ کن تاریخی مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی دباؤ، عالمی تنازعات اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں ال نینو کے باعث خشک سالی اور شدید بارشوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کو شدید موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے اور مستقبل میں پانی اور تیل عالمی تنازعات کے اہم اسباب بن سکتے ہیں۔مصنوعی ذہانت اور ماحولیات کے تعلق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کےلئےئ بڑی مقدار میں توانائی اور پانی درکار ہوتا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مراکز کتنا پانی استعمال کر رہے ہیں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سابقہ ٹیکنالوجیز سے مختلف ہے کیونکہ اب یہ محض ایک آلہ نہیں بلکہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھنے والا نظام بنتی جا رہی ہے اس لئے پالیسی سازوں کو اس کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔توانائی کے شعبے میں پاکستان کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ گزشتہ سال ملک نے تقریباً 50 گیگاواٹ کے شمسی پینل درآمد کیے اور نجی شعبے کی کوششوں سے توانائی کے نظام میں شمسی بجلی کا حصہ تیزی سے بڑھا ہے۔ اب اگلا مرحلہ بیٹری سٹوریج اور الیکٹرک گاڑیوں کا ہے جس کے لیے بجلی کے ترسیلی نظام اور چارجنگ انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے بجلی کے غیر مؤثر معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایسی بجلی کےلئے بھی ادائیگیاں کر رہا ہے جسے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، جبکہ پرانا بجلی کا ترسیلی نظام تقریباً 18 فیصد بجلی ضائع کر رہا ہے۔انہوں نے آئی ایم ایف کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں فوسل فیول پر سالانہ تقریباً سات ہزار ارب ڈالر کی سبسڈی دی جا رہی ہے لیکن یہ مالی وسائل ان طبقات تک نہیں پہنچ رہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک نے کرہ ارض کے کاربن وسائل کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے انہیں دوسرے ممالک سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ وہ اپنے مسائل کا حل خود تلاش کریں۔ انہوں نے سموگ کے مسئلے پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو ان عوامل پر فوری قابو پانا چاہئے جو اس کے اپنے اختیار میں ہیں۔وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شیزرا منصب خان کھرل نے کہا کہ پاکستان اب اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں قومی موسمیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سرحدوں کی پابند نہیں اور سیلاب، شدید گرمی، بارشوں کے بدلتے انداز اور پانی کی قلت پورے خطے کے مشترکہ مسائل ہیں۔ نیپال میں حالیہ قدرتی آفت بھی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی تعاون کے بغیر ان خطرات کا مقابلہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی لچک کو الگ ماحولیاتی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ترقیاتی منصوبہ بندی اور وسائل کے انتظام کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں قومی موافقت منصوبے، تازہ ترین قومی موسمیاتی وعدوں (این ڈی سی 3.0)، قومی خشک سالی منصوبہ 2025-2035، قومی موسمیاتی مالیاتی حکمت عملی اور کلائمیٹ پراسپرٹی پلان کو اہم اقدامات قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کلائمیٹ پراسپرٹی پلان کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے ایک دستاویز بھی تیار کی گئی ہے تاکہ موسمیاتی ترجیحات کو سرمایہ کاری کے مواقع سے منسلک کیا جا سکے۔ڈاکٹر شیزرا نے کہا کہ پاکستان کے مختلف صوبوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مختلف خطرات کا سامنا ہے، اس لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون ضروری ہے تاکہ موافقت کے اقدامات محض پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رہیں۔ کامیابی کا معیار پالیسیوں اور منصوبوں کی تعداد نہیں بلکہ آفات سے بہتر تیاری اور عوام کی مشکلات میں حقیقی کمی ہونا چاہیے۔ انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، پانی کے مؤثر استعمال اور ماحول دوست پیداوار میں سرمایہ کاری بڑھائے کیونکہ صرف حکومتی وسائل سے ان چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں۔آئندہ ماہ ترکی میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس (COP31) کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی انصاف اور قابلِ پیش گوئی، آسان رسائی اور ضرورت کے مطابق موسمیاتی مالی معاونت کا مطالبہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالی معاونت کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے قومی اور صوبائی اداروں کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ذریعے ایس ڈی پی آئی اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے اشتراک سے قومی صورتحالِ ماحولیات کی تازہ رپورٹ تیار کر رہی ہے، جو 2016 کے بعد پہلی رپورٹ ہوگی اور جلد جاری کی جائے گی۔اجلاس کا انعقاد اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور سدرن وائس کے اشتراک سے کیا گیا۔ دیگر مقررین میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن، یو این ای پی کے مظہر عالم، ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری اور سدرن وائس کی ٹریسی مامون شامل تھیں، جنہوں نے آن لائن شرکت کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ نے موسمیاتی تحفظ کےلئے اہم اقدامات کئے ہیں اور ملک ماحولیاتی قوانین کو آئینی تحفظ دینے کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے اور انہیں کیمبرج یونیورسٹی کی ماحولیاتی قانون سے متعلق کتاب میں بھی شامل کیا گیا ہے۔جنوبی ایشیا پیسیفک کی نمائندہ ٹریسی مامون اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے علاقائی رابطہ کار مظہرالاسلام عالم نے بھی موسمیاتی اقدامات میں مقامی حکومتوں کی شمولیت، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نجی و سرکاری شعبوں کے تعاون پر زور دیا۔ مقررین نے کہا کہ موسمیاتی منصوبوں کو ترقیاتی ترجیحات کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit