غذائی عدم تحفظ زرعی معیشت کیلئے خطرہ،: زرعی نظام میں اصلاحات ناگزیر: رومینہ خورشید 1.4-11671-News

غذائی عدم تحفظ زرعی معیشت کیلئے خطرہ،: زرعی نظام میں اصلاحات ناگزیر: رومینہ خورشید 1.4-11671-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


غذائی عدم تحفظ زرعی معیشت کیلئے خطرہ،: زرعی نظام میں اصلاحات ناگزیر: رومینہ خورشید 1.4

Calendar 02 Nov,2026

اسلام آباد (           )وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلیرومینہ خورشید عالم نے پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، موسمیاتی آفات اور زمین کی زرخیزی میں کمی کے پیش نظر روایتی زرعی طریقوں کی جگہ بحالیِ زمین پر مبنی ماحول دوست زراعت (ری جنریٹو ایگریکلچر) اپنانے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان مسائل سے ملک کی غذائی سلامتی، زرعی پیداوار اور دیہی آبادی کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔وہ پیریہاںپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور پیپسی کو پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے اجلاس ’’بحالیِ زمین پر مبنی زرعی طریقوں کے ذریعے زراعت پر نظرثانی، مٹی، پانی اور قدرتی توازن کی بحالی‘‘ سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ کن اقدام کا وقت آ چکا ہے اور خوراک پیدا کرنے کے طریقوں کو پانی کی قلت سے نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اس کے لئے زمین کی صحت بہتر بنانے، پانی کے تحفظ اور کسانوں کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے قابل بنانا ضروری ہے۔رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ زراعت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں 23.44 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور ملک کی تقریباً ایک تہائی افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے، اس لیے اس شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں سے پہنچنے والا نقصان پوری معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فی کس سالانہ پانی کی دستیابی کم ہو کر تقریباً ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے جو پانی کی قلت کی خطرناک حد کے قریب ہے، جبکہ ملک کے 90 فیصد سے زیادہ آبی وسائل زراعت میں استعمال ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیر متوقع بارشوں، شدید موسمی حالات، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور پانی کی بڑھتی ہوئی طلب نے آبی وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آٹھ ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے جبکہ زراعت اور مویشیوں کے شعبے کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات فصلوں اور مویشیوں کی تباہی کے ساتھ کسانوں کو نفسیاتی صدمے، نقل مکانی اور بے دخلی جیسے مسائل سے بھی دوچار کر رہی ہیں۔ انہوں نے دریائے سندھ کے سرحد پار آبی نظام کا ذکر کرتے ہوئے پانی سے متعلق معلومات کے تبادلے اور پیشگی اطلاع کے مؤثر نظام کے لیے علاقائی تعاون پر بھی زور دیا۔قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر شائستہ خان جدون نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کا شکار گھرانوں کا تناسب 2018-19 کے 15.92 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 24.3 فیصد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ کا مطلب صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ خاندان غذائیت سے بھرپور غذا خریدنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور کسان اپنی زمین میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے معاشی وسائل اور اعتماد رکھتے ہوں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے اقدام کے تحت پاکستان فوڈ سکیورٹی انفارمیشن سسٹم تیار کیا جا رہا ہے جس میں گندم، سبزیوں، دالوں اور اناج کی پیداوار اور منڈیوں میں قیمتوں سے متعلق معلومات کو مختلف ڈیش بورڈز کے ذریعے یکجا کیا جائے گا تاکہ بروقت پالیسی فیصلے کئے جا سکیں۔ حکومت صوبائی انتظامیہ کے تعاون سے زرعی شعبے کے لئے ایک روڈ میپ پر بھی کام کر رہی ہے جس میں جدید مشینری، مالی وسائل تک رسائی اور نوجوانوں سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، قابلِ کاشت زمین میں کمی اور شدید موسمی حالات زرعی پیداوار کو متاثر کرنے کے ساتھ کاشت کاری کو زیادہ خطرناک پیشہ بنا رہے ہیں جس کے باعث نوجوان نسل زراعت سے دور ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی خاندانی تعاون کا نظام کمزور ہونے سے کسان ڈیزل، کھاد اور زرعی ادویات کے لئے درمیانی افراد پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جو انہیں بھاری اضافی قیمتوں پر ادھار فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح فصل کی کٹائی کے بعد بھی کسانوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔پیپسی کو پاکستان کے سربراہ برائے ایگرو زوار کاظمی نے کہا کہ پاکستان کا زرعی ماحولیاتی نظام مسلسل تنزلی کا شکار ہے اور ماحولیاتی خرابی و موسمیاتی تبدیلی کے باعث زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی اور حیاتیاتی تنوع پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمین میں نامیاتی مادے کی مقدار کم ہو کر 0.5 فیصد سے بھی نیچے آ گئی ہے جبکہ اس کی مثالی سطح دو فیصد سے زیادہ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی صحت میں کمی زرعی پیداوار کے پائیدار مستقبل کےلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپسی کو زراعت کو ایک مکمل ماحولیاتی نظام کے طور پر دیکھتی ہے جہاں صحت مند مٹی، مناسب پانی، توانائی اور حیاتیاتی تنوع ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) تھائی لینڈ کی پروگرام منیجر سلویا گیاڈا نے زراعت میں ماحولیاتی نظام پر مبنی موافقت (ایکو سسٹم بیسڈ ایڈاپٹیشن) کو شامل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحالیِ زمین پر مبنی زرعی طریقے کسانوں اور مقامی آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے اور قدرتی ماحولیاتی خدمات کی بحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ہر علاقے کے معاشی، ماحولیاتی اور قدرتی حالات مختلف ہوتے ہیں اس لئے تمام علاقوں کیلئے ایک ہی حکمت عملی اختیار نہیں کی جا سکتی۔پیپسی کو پاکستان کی ایگرو سسٹین ایبلٹی لیڈ انیلہ حکیم نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے محفوظ زرعی ویلیو چین کی تشکیل کے لئے نجی شعبے، حکومت اور کسانوں کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی، معلومات کے تبادلے اور پائیدار زرعی طریقوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا تاکہ پیداوار میں اضافہ، قدرتی وسائل کا تحفظ اور پاکستان کے زرعی شعبے کی مسابقت بہتر بنائی جا سکے 

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit