اسلام آباد : عالمی بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا ہے کہ چند ہی برسوں میں دس لاکھ مکانات کی تعمیر اور متاثرہ خاندانوں کے حوالے کرنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ امید ہے کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) کا منصوبہ اپنے مجموعی ہدف، یعنی تقریباً 21 لاکھ مکانات کی تعمیر، کو بھی کامیابی سے مکمل کرے گا۔ یہاں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس میں ’’ایس پی ایچ ایف: قدرتی آفات کے بعد گھروں کی تعمیرِ نو کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے نمائندوں نے سندھ میں گھروں کی تعمیرِ نو کے اس منصوبے کو ان ممالک کے لئے قابلِ تقلید مثال قرار دیا جو موسمیاتی آفات، غربت اور رہائش کی ناکافی سہولتوں جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ ان کے علم میں کوئی دوسرا ملک نہیں جہاں چند برسوں کے اندر دس لاکھ مکانات تعمیرکئے گئے ہوں۔ انہوں نے اس پیش رفت کی رفتار اور وسعت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی بینک پاکستان کے اس تجربے کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ موسمِ بہار میں عالمی بینک کے کسی بڑے اجلاس کے موقع پر سندھ کے اس منصوبے کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ دوسرے ممالک بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔انہوں نے انڈونیشیا کے صوبے آچے میں 2004ئ کے سونامی کے بعد تعمیرِ نو کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت تعمیر کئے گئے کئی مکانات خالی پڑے رہے کیونکہ ان کی تعمیر میں مقامی ثقافت، رہن سہن اور لوگوں کی ترجیحات کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا۔پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے نمائندے جیرون ولیمز نے کہا کہ اس منصوبے نے یورپی سرمایہ کاری بینک (ای آئی بی) کی تقریباً دس سال بعد پاکستان میں واپسی کی راہ بھی ہموار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022ئ کے سیلاب کے بعد یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک پر مشتمل ’’ٹیم یورپ‘‘ نے تیزی سے ایک ارب یورو کی مالی معاونت فراہم کرنے کےلئے وسائل جمع کیے، جس کا بڑا حصہ امدادی گرانٹس پر مشتمل تھا۔انہوں نے بتایا کہ یورپی سرمایہ کاری بینک نے رواں سال ایس پی ایچ ایف کے ساتھ دس کروڑ یورو کے قرضے کا معاہدہ کیا، جس کا مقصد منصوبے کی مالی ضروریات پوری کرنے اور باقی ماندہ مکانات کی تعمیر میں مدد فراہم کرنا ہے۔جیرون ولیمز نے منصوبے کے شفاف، مقامی آبادی پر مبنی اور کم لاگت طریقہ کار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مالیاتی سہولتوں تک رسائی کے نئے راستے بھی کھلے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کی ان غریب خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھلوانا ایک اہم پیش رفت ہے جو اس سے پہلے کبھی باقاعدہ بینکاری نظام کا حصہ نہیں بن سکی تھیں۔پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ایما ژاؤچِن فین نے اس منصوبے کو بین الاقوامی اہمیت کی حامل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا وسیع دائرہ کار، تیز رفتار پیش رفت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا انداز دوسرے ممالک میں رہائشی منصوبوں کی مالی معاونت کے لئے بھی قابلِ عمل مثال فراہم کرتا ہے۔ڈاکٹر ایما نے کہا کہ پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ایک پائیدار اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے طریقہ کار کے ذریعے ان خاندانوں تک بھی گھروں کی تعمیر کے لئے مدد پہنچائی جا سکتی ہے جو پہلے ایسی سہولتوں سے محروم تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین تک رسائی، ہنرمندی کے فروغ، روزگار کے مواقع اور مالیاتی نظام میں شمولیت جیسے وسیع تر فوائد بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔چیئرمین سندھ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ نے بتایا کہ ایس پی ایچ ایف منصوبے کے لئے عالمی بینک کے ادارے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کی جانب سے دو فیصد شرحِ سود پر قرض فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے رسمی بینکاری نظام تک غریب طبقے کی رسائی میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اپنے گھریلو ملازمین کے بینک اکاؤنٹس کھلوانے کی کوشش کی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مثال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بینکاری سہولتوں تک رسائی کتنی مشکل ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے کہا کہ اگرچہ 2022 کے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور بھاری نقصان پہنچایا تاہم سندھ میں گھروں کی تعمیرِ نو کا یہ منصوبہ ایک قابلِ ذکر کامیابی بن کر سامنے آیا ہے جسے مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے اور عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ایس پی ایچ ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد محمود شیخ کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق منصوبے کے تحت تقریباً 16 لاکھ مکانات کی تعمیر شروع کی جا چکی ہے جبکہ دس لاکھ مکانات مکمل کرکے ان کے مستحق مالکان کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد سندھ میں تباہ یا متاثر ہونے والے تقریباً 21 لاکھ مکانات کی تعمیرِ نو ہے۔ اس مقصد کے لئے عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے خطیر مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں یورپی سرمایہ کاری بینک بھی تقریباً ایک دہائی بعد پاکستان میں دوبارہ سرگرم ہوا ہے۔یہ منصوبہ اب محض سیلاب سے تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیرِ نو تک محدود نہیں رہا بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے والے مضبوط گھروں کی تعمیر کے ساتھ دیہی روزگار، معاشی بحالی، خواتین کو بااختیار بنانے اور غریب خاندانوں کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔ یوں سندھ کا یہ تجربہ قدرتی آفات کے بعد متاثرہ آبادیوں کی بحالی اور انہیں ایک بہتر، محفوظ اور باوقار زندگی فراہم کرنے کے حوالے سے ایک جامع ماڈل کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit