جامعات میں نصاب، اساتذہ کی تربیت اور ڈیجیٹل سہولتوں میں بہتری کی ضرورت پر زور A-3-11678-News

جامعات میں نصاب، اساتذہ کی تربیت اور ڈیجیٹل سہولتوں میں بہتری کی ضرورت پر زور A-3-11678-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


جامعات میں نصاب، اساتذہ کی تربیت اور ڈیجیٹل سہولتوں میں بہتری کی ضرورت پر زور A-3

Calendar 03 Nov,2026

اسلام آباد: ماہرین تعلیم اور جامعات کے سربراہان نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذمہ دارانہ استعمال کے لئے نصاب، تدریسی طریقوں، اساتذہ کی تربیت اور ڈیجیٹل سہولتوں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی سوچ، تنقیدی صلاحیت اور فیصلہ سازی کا متبادل بنانے کے بجائے ان کی معاونت کےلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کی 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لئے جامعات کی تیاری سے متعلق وائس چانسلرز کی گول میز نشست  سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی کی مخالفت حقیقت پسندانہ رویہ نہیں، اصل چیلنج یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے طلبہ کی ذہنی، تجزیاتی اور تنقیدی صلاحیتیں متاثر نہ ہوں۔بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ جامعات کو مصنوعی ذہانت کے استعمال میں حد سے زیادہ الجھنے کے بجائے اسے انسانی تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کا معاون بنانا چاہئے۔ اننہوں نے کہا کہ مضبوط تنقیدی صلاحیت رکھنے والے طلبہ اے آئی سے بہتر فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ ایسی صلاحیتوں سے محروم طلبہ اس ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے لگتے ہیں اور معلومات کو پرکھے بغیر قبول کر لیتے ہیں۔ جامعات کو ایسے فارغ التحصیل افراد تیار کرنے چاہئیںجو زراعت، بینکاری اور دیگر شعبوں میں مؤثر قیادت اور درست فیصلے کرنے کے قابل ہوں۔قومی اے آئی پالیسی کے چیئرمین ڈاکٹر انیل سلمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو محض ایک وقتی رجحان یا الگ منصوبہ نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت، معاشی ترقی اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے والے مکمل نظام کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے معیاری نصاب کی عدم موجودگی، اساتذہ کی ناکافی تربیت اور ٹیکنالوجی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کو بڑے مسائل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی علوم کے طلبہ کو اے آئی کی تعلیم متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے ذریعے دی جانی چاہئے جبکہ شہری اور دیہی جامعات کے تدریسی معیار میں فرق بھی دور کرنا ضروری ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ تعلیم تک وسیع رسائی سیکھنے کی صلاحیت بڑھا سکتی ہے تاہم مصنوعی ذہانت انسانی دانش کا متبادل نہیں بن سکتی۔ تدریس، تعلیمی مواد کی تیاری اور طلبہ کی جانچ کے عمل میں اس ٹیکنالوجی سے مدد لی جا سکتی ہے۔جامعہ سندھ جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ اے آئی نصاب اور مختصر تدریسی ویڈیوز کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے،تاہم اس کے نتائج کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل سہولتوں کی بہتری اور ٹیکنالوجی تک یکساں رسائی پر زور دیا۔یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر منتصر علی غضنفر نے کہا کہ 2030 تک دنیا میں 17 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہونے جبکہ 9 کروڑ 20 لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے اس لئے جامعات کو نصاب، امتحانی طریقوں اور اساتذہ کی تربیت میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ طلبہ کو صرف چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کا استعمال سکھانے کے بجائے تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، قیادت اور مسائل حل کرنے کی تربیت دینا ضروری ہے۔پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اقرار احمد خان نے مقامی ضرورتوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، خصوصاً بڑے لسانی اور تصویری ماڈلز تیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو چند نئے مضامین متعارف کرانے کے بجائے اپنے نصاب میں جامع اصلاحات کرنا ہوں گی۔

غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہونی چاہئے۔ انہوں نے مؤثر امتحانی اور جانچ کے طریقے اپنانے کی ضرورت پر زور دیا

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit