خواتین کی عزتِ نفس اور تحفظ کے حق کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے، ماہرین A-1-11679-News

خواتین کی عزتِ نفس اور تحفظ کے حق کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے، ماہرین A-1-11679-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


خواتین کی عزتِ نفس اور تحفظ کے حق کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے، ماہرین A-1

Calendar 03 Nov,2026

اسلام آباد : ماہرین نے خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے، ان کیلئے  روزگار اور کاروبار کے مواقع بڑھانے اور افرادی قوت سمیت ملکی معیشت میں ان کی مؤثر شمولیت یقینی بنانے کےلئے موجودہ رکاوٹیں دور کرنے اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے دوسرے روز منعقدہ خصوصی نشست ’’ہنر سے معاشی خودمختاری تک: خواتین کے لئے توسیعی مواقع‘‘ میں کیا گیا۔ اس نشست کا انعقاد لوریال پاکستان کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ ہنر کو معاشی خودمختاری کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ہنر اور معاشی استحکام کے درمیان پانچ اہم دروازے کھولنا ضروری ہیں۔انہوں نے کہا  کہ ہمیں ایسی ادارہ جاتی اور تجارتی سطح پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو خواتین کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے اور اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے یکساں مواقع فراہم کریں۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے ہنر، مالی وسائل اور منڈیوں تک رسائی کو معاشی خودمختاری  کی کلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تینوں عناصر کا ایک ساتھ موجود ہونا اور باہمی تعاون سے کام کرنا ضروری ہے۔ اسی صورت میں خواتین کے ہنر کو حقیقی معاشی مواقع اور مستقل روزگار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بحث میں انشورنس اور مائیکروفنانس کے شعبوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو مالی معاونت اور منڈیوں سے روابط فراہم کرنے کے لئے ان شعبوں کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشورنس اور چھوٹے قرضوں کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں کو بھی اس نظام کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ خواتین اپنے ہنر کی بنیاد پر مستقل ذریعہ آمدن پیدا کر سکیں۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کی ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر وان نگوین نے گلگت بلتستان میں یو این ڈی پی کے ایک منصوبے کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی پہلے سے موجود صلاحیتوں اور ہنر کو آمدن کے ذرائع میں تبدیل کرنے کے مثبت اثرات صرف انفرادی معاشی خودمختاری تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ جب خواتین اپنے ہنر سے روزی کمانے کے قابل ہوتی ہیں تو ان کے بچوں کی تعلیم اور معیارِ زندگی بھی بہتر ہوتا ہے اور اس کے اثرات اگلی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ڈاکٹر وان نگوین نے کہا کہ تربیت حاصل کرنے کے بعد بھی خواتین کو کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ان میں منڈیوں تک پہنچنے کے لئے آمدورفت اور سفری سہولتوں کی کمی، نقل و حرکت پر پابندیاں اور گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے مناسب انتظام نہ ہونا شامل ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ تربیتی پروگراموں کو ابتدا ہی سے خریداروں اور منڈیوں کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہئے تاکہ خواتین تربیت مکمل کرنے کے بعد اپنے ہنر کو روزگار میں تبدیل کر سکیں۔ اانہوں نے کہا کہ کہ اصل سوال یہ نہیں کہ خواتین کو مزید کیا کرنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے نظام اور رویوں میں کون سی تبدیلیاں لانی چاہئیں۔پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آرا منظور وٹو نے کہا کہ ہنر ہر فرد کے لئے طاقت، عزتِ نفس اور معاشی خودمختاری حاصل کرنے کا ذریعہ ہے تاہم خواتین کے لئے سماجی تحفظ کے اقدامات پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ غربت کا بوجھ مردوں کے مقابلے میں خواتین پر زیادہ پڑتا ہے۔لوریال پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریحان سعید نے ملک میں خواتین کی افرادی قوت میں انتہائی کم شرحِ شرکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد رکاوٹیں آج بھی خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے سے روکتی ہیں۔ ان میں دفاتر اور کام کی جگہوں پر ہراسانی، سڑکوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات اور تحفظ سے متعلق دیگر خدشات شامل ہیں جو نہ صرف ان کی نقل و حرکت محدود کرتے ہیں بلکہ روزگار تک رسائی اور معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔ماہرِ صحتِ عامہ اور صنفی انصاف ڈاکٹر رخشندہ پروین نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین کے لئے ہنرمندی کی تربیت کے متعدد پروگرام جاری ہیں لیکن صرف ہنر سکھانا خواتین کو بااختیار بنانے کےلئے کافی نہیں۔ انہوں نے خواتین کی معاشی اور عملی زندگی میں شمولیت کی راہ میں حائل مسائل کو تین بنیادی زمروں میں تقسیم کیا، جن میں قانونی اور ادارہ جاتی رکاوٹیں، معاشرتی مسائل اور معاشی مشکلات شامل ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم خواتین کو زیادہ سے زیادہ گھروں سے باہر نکلنے اور معاشرے میں اپنا کردار نمایاں کرنے کی ترغیب تو دے رہے ہیں لیکن کیا ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے انتظامات بھی اسی رفتار سے بہتر ہو رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ محض موجودگی کو عملی شمولیت نہیں کہا جا سکتا اور عملی شمولیت بھی اس وقت تک حقیقی خودمختاری نہیں بنتی جب تک خواتین کو اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا اختیار حاصل نہ ہو۔پنجاب محتسب برائے تحفظِ خواتین از ہراسانی در مقامِ کار ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا کہ ذاتی تحفظ کے خدشات اور کام کی جگہوں پر ہراسانی کے واقعات خواتین کی ملازمت اختیار کرنے کی صلاحیت اور خواہش دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی اس وقت اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کر پاتیں جب انہیں تحفظ کے حوالے سے خدشات لاحق ہوں۔ بہت سی خواتین انتقامی کارروائی یا ملازمت سے محروم ہونے کے خوف کے باعث ہراسانی کے واقعات کی شکایت درج کرانے سے بھی گریز کرتی ہیں۔آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا کہ فنی تربیت اور ہنرمندی کے پروگراموں کی کامیابی صرف اس بنیاد پر نہیں پرکھی جانی چاہئے کہ کتنی خواتین نے تربیت حاصل کی، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان میں سے کتنی خواتین اپنے ہنر کو عملی معاشی مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی باقاعدگی سے دیکھا جانا چاہئے کہ تربیت حاصل کرنے والی کتنی خواتین ملازمت اختیار کرتی ہیں، کتنی اپنا کاروبار شروع کرتی ہیں اور کتنی اپنے کاروبار کو مستقل اور کامیاب اداروں میں تبدیل کرنے کے قابل ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے روزگار کے حق کے ساتھ ان کی عزتِ نفس اور تحفظ کے حق کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit