اسلام آباد: موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور معیشت کو ماحول دوست بنیادوں پر استوار کرنے کےلئے پاکستان کو 2030 تک 348 ارب ڈالر کی موسمیاتی مالی معاونت درکار ہوگی تاہم اس بڑے مالیاتی خلا کو پُر کرنے کےلئے صرف عالمی فنڈز پر انحصار کافی نہیں ہوگا بلکہ رعایتی مالی وسائل، نجی سرمایہ کاری، قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی تیاری اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری بھی ناگزیر ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لئے 100 منصوبوں پر مشتمل کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان، ملکی سطح پر مربوط مالیاتی پلیٹ فارم، قابل تجدید توانائی، بیٹریوں کی مقامی تیاری اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سمیت متعدد اقدامات پر کام تیز کر دیا ہے۔وزیراعظم کے معاون برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان نے یہاں ’’پاکستان میں موسمیاتی مالی معاونت کے لیے ملکی پلیٹ فارمز کو فعال بنانا: تیاری اور مالیاتی خلا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے معیشت کو ماحول دوست بنانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ اس منتقلی کے لئے مالی وسائل بھی فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تجارتی بنیادوں پر قرضوں سے آگے بڑھ کر نقصان و تلافی کے فنڈز اور کثیرالجہتی رعایتی مالی معاونت کے ذریعے اپنی تاریخی ذمہ داریاں پوری کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب پالیسی سازی سے عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان، پاکستان گرین ٹیکسانومی اور مختلف شعبوں پر مشتمل ملکی پلیٹ فارم اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے رانا احسان افضل خان نے بتایا کہ پاکستان نے 2024 میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت درآمد کی جبکہ 2025 میں تقسیم شدہ شمسی توانائی ملک کی مجموعی بجلی کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ فراہم کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہگزشتہ چھ ماہ کے دوران تقریباً 4.5 گیگاواٹ صلاحیت کے بیٹری اسٹوریج آلات بھی درآمد کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی سطح پر بیٹریوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کو خطے میں بیٹری مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے کے لئے پالیسی تیار کر رہی ہے۔ حال ہی میں منظور ہونے والی آٹو پالیسی 2026 تا 2031 اور الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت 2030 تک گاڑیوں میں برقی گاڑیوں کا تناسب 30 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے معیشت کو 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی بچت متوقع ہے۔رانا احسان افضل خان نے بتایا کہ پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (پی اے وی ای) پروگرام کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی خریداری کے لئے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ پاکستان 2026 کے کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈیکس میں عالمی سطح پر 15ویں نمبر پر رہا ہے اور اپنا قومی سطح پر طے شدہ موسمیاتی عزم (این ڈی سی 3.0) بھی جمع کرا چکا ہے۔انہوں پاکستان کا ہدف برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار کی شرح چھ فیصد تک پہنچانا ہے۔ قابل تجدید توانائی اور ماحول دوست زراعت اس حکمت عملی کے اہم ستون ہیں، جس کے تحت 2035 تک ملکی معیشت کا حجم ایک کھرب ڈالر تک بڑھانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کے لئے وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ خصوصی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ سندھ میں کاربن مارکیٹ کے 13 منصوبوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے جن سے 33 کروڑ ٹن سے زیادہ کاربن اخراج میں کمی کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی منصوبوں کی ایک فہرست بھی تیار ہے جس کی مجموعی مالیت تقریباً 62 ملین ڈالر ہے۔رانا احسان افضل خان نے نشاندہی کی کہ بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے پاس سرمایہ تو موجود ہے لیکن انہیں ایسے قابلِ سرمایہ کاری منصوبے دستیاب نہیں جو مالی اور تجارتی اعتبار سے قابل عمل ہوں۔ اس مسئلے کے حل کے لئے منصوبوں کی تیاری اور تکنیکی معاونت کی سہولیات قائم کرنا ضروری ہے تاکہ قومی ترجیحات کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت تجارت ایک قومی ادارہ قائم کرنے پر کام کر رہی ہے جو برآمدکنندگان کو بین الاقوامی ماحولیاتی تقاضوں کی تکمیل میں معاونت فراہم کرے گا۔ ان تقاضوں میں یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) بھی شامل ہے، جس کے تحت برآمدی مصنوعات سے منسلک کاربن اخراج کو اہمیت حاصل ہے۔کلائمیٹ ویلنریبل فورم (سی وی ایف۔ وی 20) کے جنوبی اور مغربی ایشیا کے علاقائی ڈائریکٹر حمزہ علی ہارون نے بتایا کہ پاکستان کے کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان میں توسیع کرتے ہوئے منصوبوں کی تعداد 69 سے بڑھا کر 100 کر دی گئی ہے جبکہ ان کی مجموعی مالیت 4.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.5 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کا نظرثانی شدہ دوسرا ورژن وزارت خزانہ میں جمع کرا دیا گیا ہے جبکہ اس وسیع تر اقدام کے تحت 2050ئ تک 1.6 کھرب ڈالر کے وسائل متحرک کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ اپریل 2026ئ میں وزارت خزانہ کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا اور اب اسے قومی ملکیت اور قابل پیمائش نتائج پر مبنی ملکی پلیٹ فارم کے ذریعے عملی شکل دینے کی تیاری جاری ہے۔حمزہ علی ہارون نے بتایا کہ وزارتوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اس پلیٹ فارم کے لئے چھ عملی ماڈل تیار کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی ڈھانچے اور رکنیت کے طریقہ کار پر بات چیت ہو سکتی ہے لیکن قومی ملکیت، عمل درآمد کی صلاحیت اور سرمایہ کاری سے متعلق مہارت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کہا کہ وزارت خزانہ موسمیاتی مالی معاونت کے حصول کے لئے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اقدام کو محض مکالمے اور مشاورت تک محدود رکھنے کے بجائے ایک واضح اور قابل عمل منصوبے میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے کو پاکستان کےلئے وجودی نوعیت کے خطرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے شروع کئے جانے والے منصوبوں میں سہولت فراہم کرے گی۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت صوبائی منصوبے متعلقہ صوبائی محکموں برائے منصوبہ بندی و ترقی کے ذریعے تیار اور آگے بھیجے جائیں گے جس کے بعد وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر جانچے گی۔عدنان پاشا نے کہا کہ وزارت خزانہ ان منصوبوں کے لئے مالیاتی ڈھانچہ تیار کرے گی جبکہ اقتصادی امور ڈویژن اور بیرونی مالیات ونگ ترقیاتی شراکت داروں سے رابطے اور مالیاتی معاملات کی تشکیل میں معاونت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں کے انتخاب اور مالی معاونت کے تعین میں قومی ترجیحات کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں کی موسمیاتی موافقت سے متعلق مخصوص ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے ڈاکٹر محمد رفیق نے بتایا کہ اتھارٹی ایک ایسا ملکی پلیٹ فارم قائم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے جو وفاقی اور صوبائی سطح پر بکھرے ہوئے موسمیاتی اقدامات کو یکجا کرکے رابطہ کاری، حکمرانی اور موسمیاتی مالی منصوبہ بندی کو بہتر بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 کے تحت فعال ہونے والی اتھارٹی کو ملک گیر دائرہ اختیار حاصل ہے۔ اس کے چھ صوبائی اور پانچ وفاقی ارکان موسمیاتی موافقت، اخراج میں کمی اور موسمیاتی مالی معاونت کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر محمد رفیق نے نشاندہی کی کہ اس وقت مختلف وزارتیں اور صوبائی ادارے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبے الگ الگ طور پر چلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں اعداد و شمار، حکمرانی، منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کے شعبوں میں خلا پیدا ہو رہا ہے۔ مجوزہ پلیٹ فارم کے ذریعے پہلے سے موجود مختلف فریم ورکس کو یکجا کیا جائے گا جن میں وزارت خزانہ کا پائیدار مالیاتی فریم ورک، وزارت منصوبہ بندی کا بلینڈڈ فنانس فریم ورک اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کی قومی موسمیاتی مالیاتی حکمت عملی شامل ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ کلائمیٹ چینج اتھارٹی وفاقی وزارتوں یا صوبائی حکومتوں کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان کے ساتھ مل کر موسمیاتی اقدامات کو مربوط بنانے کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم کی تجویز گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) کو بھیج دی گئی ہے اور اس بارے میں آئندہ ہفتے فیصلے کی توقع ہے۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit