کوئلے سے صاف توانائی کی منتقلی تیز کرنے، سستی بجلی بنانے اور مالی بوجھ کم کرنے پر زور B5-11717-News

کوئلے سے صاف توانائی کی منتقلی تیز کرنے، سستی بجلی بنانے اور مالی بوجھ کم کرنے پر زور B5-11717-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


کوئلے سے صاف توانائی کی منتقلی تیز کرنے، سستی بجلی بنانے اور مالی بوجھ کم کرنے پر زور B5

Calendar 04 Nov,2026

اسلام آباد: پاکستان کے توانائی شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی بحران، کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی کم ہوتی افادیت اور شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ نے کوئلے سے صاف توانائی کی جانب منتقلی ناگزیر بنا دی ہے۔ توانائی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بجلی گھروں کو پیداواری صلاحیت کے عوض بھاری ادائیگیوں، گردشی قرضوں اور درآمدی کوئلے پر انحصار کے موجودہ نظام کو تبدیل نہ کیا گیا تو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھے گا۔ انہوں نے کوئلے کے بجلی گھروں کی مرحلہ وار بندش، بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی، عالمی مالیاتی معاونت کے حصول اور متاثرہ کارکنوں کے روزگار کے تحفظ کے لئے جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کی منتقلی کا عمل مالی طور پر قابلِ عمل، منصفانہ اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔اس امر کا اظہار ماہرین نے پالیسی ادرہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جاری چار روزہ پائیدار ترقی کانفرنس کے تیسرے روز’’ کوئلے سے صاف توانائی کی جانب: مرحلہ وار اور منصفانہ توانائی منتقلی کی ضرورت‘‘  کے موضوع پرمنعقدہ ایک پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو مرحلہ وار بند کرنے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے معاونت حاصل کرنے کے مواقع موجود ہیں تاہم اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے سیاسی عزم کا فقدان ہے۔انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے انرجی ٹرانزیشن میکانزم (ای ٹی ایم) اور جنوبی افریقہ کے 8.5 ارب ڈالر کے جسٹ انرجی ٹرانزیشن پارٹنرشپ پروگرام کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے مالیاتی مواقع ہیں جن سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ملک امین اسلم نے بجلی گھروں کو پیداوار نہ دینے کے باوجود کی جانے والی ادائیگیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی آزاد بجلی گھر پالیسیوں کی بنیاد بجلی کی طلب سے متعلق ایسے اندازوں پر رکھی گئی جن کی درستگی مشکوک تھی۔ ان کے بقول طلب کے بڑھا چڑھا کر پیش کئے گئے تخمینوں اور بجلی گھروں کو دی گئی غیر معمولی مالی مراعات نے ایسے مستقل مالی بوجھ پیدا کر دیئے ہیں جن کا خمیازہ آج صارفین بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں شمسی توانائی کا تیزی سے فروغ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھرانے اور کاروباری ادارے خود صاف اور سستی بجلی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن حکومتی پالیسیاں اس تبدیلی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکیں۔ایس ڈی پی آئی کی نورالعین نے بجلی کے شعبے کو درپیش بڑھتے ہوئے مالی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے نقصانات، گردشی قرضے اور قومی گرڈ سے بجلی کی کم ہوتی ہوئی طلب نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چین کے تعاون سے قائم کیے گئے کوئلے سے چلنے والے سات بجلی گھر توانائی کی منتقلی کے عمل میں ایک بڑا چیلنج ہیں۔انہوں نے ان بجلی گھروں سے متعلق مالی معاملات کی ازسرنو تشکیل، قواعد و ضوابط میں اصلاحات اور کوئلے سے صاف توانائی کی جانب منتقلی کے قومی لائحہ عمل کی تیاری کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں سے مؤثر رابطے بڑھانے کی سفارش کی۔اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (یو این ای ایس سی اے پی) کے مائیکل ولیمسن نے کہا کہ پاکستان کو اس معاملے میں ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے، کیونکہ ملک کے بیشتر کوئلہ بجلی گھر 2015 کے بعد قائم کئے گئے اور ان سے متعلق بھاری مالی ذمہ داریاں ابھی باقی ہیں۔انہوں نے توانائی کی منصفانہ منتقلی کے لئے تین بنیادی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ قبل از وقت بند کئے جانے والے بجلی گھروں کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جائے ان کی جگہ صاف توانائی اور توانائی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیا جائے اور اس عمل سے متاثر ہونے والے کارکنوں اور کوئلے کی صنعت پر انحصار کرنے والی آبادیوں کے روزگار اور معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔مائیکل ولیمسن نے بتایا کہ یو این ای ایس سی اے پی اور ایس ڈی پی آئی نے مشترکہ طور پر ایک تحقیق کی ہے جس میں کوئلے کے بجلی گھروں کو شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں، بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام، بجلی کی ترسیل کو مستحکم رکھنے والے آلات اور ممکنہ طور پر ڈیٹا سینٹرز میں تبدیل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔توانائی کی منتقلی کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر کرسٹوف نیڈوپل وانگ نے کہا کہ کوئلے کے بجلی گھروں کو بند کرنے کے لئےمالیاتی منصوبہ بندی کرتے وقت ان کی اصل مالیت کا تعین مستقبل میں بجلی کی حقیقی طلب کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہئے۔انڈونیشیا اور جرمنی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تجویز دی کہ ہر بجلی گھر کی صورتحال کے مطابق الگ مالیاتی منصوبہ بنایا جائے، بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی اور دوبارہ مذاکرات کئے جائیں اور رعایتی شرح سود پر قرضوں سمیت نیلامی کے جدید طریقوں سے استفادہ کیا جائے۔قابلِ تجدید توانائی کے ادارے رینیوایبلز فرسٹ کے محمد باسط غوری نے خبردار کیا کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر پہلے ہی اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے اور ان کی پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ غیر استعمال شدہ ہے۔ انہوں نے بجلی گھروں کی قبل از وقت بندش سے متعلق تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض منتخب بجلی گھروں کے مالی معاملات اور معاہدوں کی ازسرنو تشکیل سے مستقبل میں پیداواری صلاحیت کے عوض ادا کی جانے والی بھاری رقوم بچائی جا سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لئے سیاسی عزم، سرمایہ کاروں سے مذاکرات اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔دوسری جانب پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے علی نواز لغاری نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجلی گھر ماضی میں ملک کو درپیش شدید بجلی بحران اور توانائی کی قلت پر قابو پانے کےلئے قائم کئے گئے تھے۔ انہوں کہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے سے ایندھن کی درآمدات میں کمی اور توانائی کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی اور بیٹریوں میں بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام کو فروغ دینے کے ساتھ بجلی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی بھی ضروری ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز (پرائیڈ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بدر عالم نے ملک میں بجلی کی طلب کے تخمینوں پر سوال اٹھاتے ہوئے تھر کے کوئلے پر مزید انحصار کی پالیسی پر بھی تحفظات ظاہر کئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر شمسی نظام لگانے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے قومی گرڈ سے بجلی کی خریداری کم ہو رہی ہے، لیکن بجلی گھروں کو پیداواری صلاحیت کے عوض طے شدہ ادائیگیاں بدستور جاری ہیں، جس کا اضافی بوجھ باقی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔چین کے ادارے گرینویشن ہب کی ینگ جی چن نے کہا کہ کوئلے سے صاف توانائی کی جانب منتقلی کے لئے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتا ہے جب منصوبے کاروباری لحاظ سے قابلِ عمل ہوں، قواعد و ضوابط واضح اور مستحکم ہوں اور سرمایہ کاروں کے خطرات کو مؤثر انداز میں کم کیا جائے۔ انہوں نے ایسے آزمائشی منصوبے شروع کرنے کی سفارش کی جن میں قابلِ تجدید توانائی، بجلی ذخیرہ کرنے کے نظام، صنعتوں میں بجلی کے استعمال میں اضافہ اور ایسے مالیاتی انتظامات شامل ہوں جو چینی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کر سکیں۔فلپائن کے ادارے پی اے سی ایس سے وابستہ کوئلے سے توانائی کی منتقلی کے بین الاقوامی ماہر ٹام ژیاؤجون وانگ نے چین کے صوبے شانشی سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کی منتقلی کے عمل میں کوئلے کی صنعت سے وابستہ کارکنوں اور مقامی آبادیوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔چین میں کوئلے کے شعبے سے وابستہ تقریباً 9 ہزار کارکنوں کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں کو ملازمتوں کے تحفظ، نئی مہارتیں سیکھنے کے محدود مواقع اور متبادل روزگار کی دستیابی کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں، خصوصاً درمیانی عمر کے کارکنوں کو نئے شعبوں میں روزگار حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔انہوں نے کوئلے کی بعض کمپنیوں کی جانب سے سیاحت سمیت دوسرے کاروباری شعبوں میں سرمایہ کاری اور اپنے ملازمین کو نئی مہارتیں سکھانے کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھی توانائی کی منتقلی کی حکمت عملی میں ہنرمندی کی تربیت، متبادل روزگار اور مقامی آبادی کی مشاورت کو بنیادی اہمیت دینی چاہئے۔رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے بجلی کے نرخوں میں کمی، قابلِ تجدید توانائی پر عائد ٹیکسوں میں مناسب ردوبدل اور متبادل توانائی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے پنجاب میں نہروں کے نظام کے ساتھ چھوٹے پن بجلی گھر قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ ان کے ذریعے اردگرد کے دیہات کو سستی اور صاف بجلی فراہم کی جا سکے۔مکالمے کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو اب محض پالیسی مباحثوں سے آگے بڑھ کر ایسے ٹھوس اور مالی طور پر قابلِ عمل منصوبوں پر کام کرنا ہوگا جو بجلی کی قیمتوں میں کمی لائیں، توانائی کے شعبے میں تبدیلی سے متاثر ہونے والے کارکنوں اور آبادیوں کا تحفظ کریں اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کریں۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے حکومتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، عالمی مالیاتی معاونت اور پاکستان اور چین کے درمیان مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔
 

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit