سی پیک 2.0 میں مقامی آبادی کی شمولیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور اعتماد سازی ناگزیر ہے: ماہرین B6-11718-News

سی پیک 2.0 میں مقامی آبادی کی شمولیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور اعتماد سازی ناگزیر ہے: ماہرین B6-11718-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


سی پیک 2.0 میں مقامی آبادی کی شمولیت، بہتر طرزِ حکمرانی اور اعتماد سازی ناگزیر ہے: ماہرین B6

Calendar 04 Nov,2026

اسلام آباد: ماہرین اور محققین نے کہا ہے کہ پاکستان میں چین کے تعاون سے جاری منصوبوں کی پائیداری کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی، پالیسیوں کا تسلسل، مقامی آبادی کی شمولیت اور فوائد کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ انکشاف کیا گیا کہ چین کے بیرونِ ملک قابلِ تجدید توانائی کے تقریباً 75 فیصد منصوبے براہِ راست سرمایہ کاری کے بجائے ٹیکنالوجی کی فراہمی اور تعمیراتی معاہدوں پر مشتمل ہیں۔ان خیالات کا اظہار علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایس ڈی پی آئی کی چار روزہ پائیدار ترقی کانفرنس کے تیسرے روز منعقدہ پالیسی مذاکرے میں کیا گیا۔ ماہرین نے سی پیک 2.0 کے تحت پہلے سے قائم منصوبوں کو زیادہ مؤثر بنانے، مقامی ہنرمندی اور صنعتی صلاحیت بڑھانے اور بڑے منصوبوں کے بجائے چھوٹے تجرباتی منصوبوں کو ترجیح دینے پر زور دیا۔انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف گرین فنانس کے ڈاکٹر شین وے نے بتایا کہ چین کے 1200 سے زائد بیرونِ ملک توانائی منصوبوں میں پاکستان کے تقریباً 17 قابلِ تجدید توانائی منصوبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں براہِ راست چینی سرمایہ کاری کا تناسب 15 فیصد ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی کی ڈاکٹر سلیحہ کمال نے پالیسیوں کے عدم تسلسل اور اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کے ابہام کو اہم رکاوٹ قرار دیا، جبکہ ڈاکٹر حنا اسلم نے منصوبوں کے معاہدوں میں مقامی روزگار، شفاف معاوضے اور کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔ایس ڈی پی آئی کی عائشہ نعیم نے بتایا کہ سندھ کے چار چینی مالی تعاون سے قائم ہوائی بجلی گھروں کے قریب آبادیوں کو زمین، چراگاہوں، ماہی گیری اور روزگار کے مسائل درپیش ہیں، جبکہ خواتین نے نقل و حرکت میں مشکلات اور عدم تحفظ کی شکایات بھی کی ہیں۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit