پاکستان موسمیاتی شکایات کے بجائے قابلِ عمل منصوبے بنا کر عالمی مالی معاونت حاصل کرے،: ماہرین B7 -11719-News

پاکستان موسمیاتی شکایات کے بجائے قابلِ عمل منصوبے بنا کر عالمی مالی معاونت حاصل کرے،: ماہرین B7 -11719-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


پاکستان موسمیاتی شکایات کے بجائے قابلِ عمل منصوبے بنا کر عالمی مالی معاونت حاصل کرے،: ماہرین B7

Calendar 04 Nov,2026

اسلام آباد: موسمیاتی و ماحولیاتی ماہرین اور پالیسی سازوں نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بیان کرنے کے بجائے اپنے وسائل اور اعداد و شمار کی بنیاد پر قابلِ عمل منصوبے تیار کرے، علاقائی تعاون بڑھائے اور عالمی سطح پر موسمیاتی مالی معاونت کے حصول کےلئے مؤثر سفارت کاری اپنائے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے پاکستان سمیت پورے خطے کی آبی و غذائی سلامتی خطرے میں پڑ رہی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود 13 ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں ممکنہ طور پر تباہ کن سیلابوں کا سبب بن سکتی ہیں، جن سے نمٹنے کےلئے جدید پیشگی اطلاع کے نظام، سائنسی تحقیق اور سرحد پار معلومات کے تبادلے کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔اسلام آباد میںپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی(SDPI) کے زیر اہتمام 29ویںپائیدار ترقی کانفرنس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (PCCA) کے چیئرپرسن حمزہ فاروق نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی کمزوریوں اور نقصانات کا ذکر کرنے تک محدود رہنے کے بجائے اعداد و شمار اور سائنسی تحقیق کی بنیاد پر ایسے قابلِ عمل اور مالی اعتبار سے مؤثر منصوبے تیار کرنے ہوں گے جو ملک کو اپنے موسمیاتی مستقبل کے فیصلے خود کرنے کے قابل بنا سکیں۔ اجلاس کا موضوع جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی، مشترکہ فضائی ماحول اور برفانی خطوں کو درپیش خطرات کے تناظر میں ماحولیاتی سفارت کاری تھا۔حمزہ فاروق نے کہا کہ عالمی فورمز، بالخصوص آئندہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس COP31 میں پاکستان کا مؤقف محض موسمیاتی نقصانات اور مشکلات کے اظہار تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے ٹھوس تجاویز، قابلِ عمل منصوبوں اور اپنے مفادات کے تحفظ پر مبنی ہونا چاہیے۔ عالمی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں کی دوہری ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف ملک کو درپیش موسمیاتی حقائق مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھیں اور دوسری طرف اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان مباحثوں کا نتیجہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئے۔ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ محض ہنگامی امداد یا وقتی اقدامات سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے پورے موسمیاتی نظام کی ازسرنو تشکیل اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو دوسروں کی تیار کردہ پالیسیوں پر عمل کرنے والے ملک کے بجائے اپنی ترجیحات اور منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے والا ملک بننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گلیشیئرز کا پگھلاؤ، فضا میں موجود سیاہ کاربن اور فضائی آلودگی کسی ملک کی سرحدوں یا سیاسی حدود کی پابند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران موسمیاتی پالیسی سازی میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور عالمی وعدوں کو قومی سطح پر عملی پالیسیوں میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ قومی ماحولیاتی موافقت کا منصوبہ (National Adaptation Plan)، قومی سطح پر طے شدہ موسمیاتی اہداف (NDCs) اور کاربن مارکیٹ سے متعلق رہنما اصول اس سلسلے میں اہم بنیاد فراہم کرتے ہیں، اگرچہ ان میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔سول سوسائٹی کولیشن فار کلائمیٹ چینج (CSCCC) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ماؤنٹین اینڈ گلیشیئر پروٹیکشن آرگنائزیشن (MGPO) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر عائشہ خان نے کہا کہ پاکستان کو برفانی خطوں (کرائیوسفیئر) کے تحفظ کے لیے علاقائی اتحاد قائم کرنے اور عالمی سطح پر مخصوص مالی معاونت کے حصول کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بارشوں و برف باری کے معمولات میں تبدیلی سے پورے خطے کی آبی اور غذائی سلامتی خطرے میں پڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے سرحد پار پھیلے ہوئے آبی نظام پر انحصار کے باعث پاکستان کو ایک زیریں آبی حصے کے ملک کی حیثیت سے خاص طور پر زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ ملک کی تقریباً 60 فیصد آبی ضروریات کا تعلق دریائے سندھ کے نظام سے ہے، جبکہ دریاؤں میں آنے والے پانی کا لگ بھگ 90 فیصد زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔عائشہ خان کے مطابق پانی اور خوراک کا تحفظ پاکستان کے بنیادی مسائل میں شامل ہیں، تاہم پہاڑی علاقوں میں آباد لوگوں کو اس حوالے سے کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ان کی روزی روٹی کا انحصار گلیشیئرز سے آنے والے پانی اور بارشوں و برف باری کے وقت اور مقدار پر ہوتا ہے۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں سے نہ صرف ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ ان کی زندگی اور بقا بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔انہوں نے برفانی خطوں کے تحفظ کے لیے ایک عالمی اعلامیے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قطب شمالی، قطب جنوبی اور دنیا کا تیسرا قطب کہلانے والا ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کا خطہ بھی عالمی موسمیاتی مالی معاونت میں یکساں اہمیت اور توجہ کا مستحق ہے۔تھائی لینڈ میں یورپی یونین کے سوئچ ایشیا پروگرام سے وابستہ ڈاکٹر رنگا پولاوالا نے کہا کہ موسمیاتی پالیسیوں میں گردشی معیشت (سرکلر اکانومی) کے اصولوں کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق پہاڑی اور ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقوں میں ان اصولوں پر عمل درآمد کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار موسمیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ہر ملک کو اپنے اندرونی اقدامات بھی مضبوط بنانا ہوں گے اور موسمیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانی ہوگی۔ وسائل کا مؤثر استعمال موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام، ان کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے اور نقصانات کے ازالے کی کوششوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ڈاکٹر رنگا پولاوالا نے وضاحت کی کہ گردشی معیشت کا تصور محض اشیا کو دوبارہ استعمال یا ری سائیکل کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق وسائل کی پوری زنجیر سے ہے۔ اس میں مصنوعات کی تیاری اور ڈیزائن سے لے کر ان کے استعمال، عمر میں اضافے اور استعمال کے اختتام پر مواد کو مؤثر انداز میں ٹھکانے لگانے یا دوبارہ کام میں لانے تک تمام مراحل شامل ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ وسائل کا غیر مؤثر استعمال آلودگی، کچرے میں اضافے اور قدرتی ماحول کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح موسمیاتی موافقت اور قدرتی آفات سے تحفظ کے بعض منصوبے بھی الٹا ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، اگر ان میں ایسے تعمیراتی مواد اور طریقے اختیار کیے جائیں جن کے لیے بہت زیادہ وسائل اور توانائی درکار ہو۔انہوں نے برفانی خطوں کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زرعی باقیات جلانے جیسے اقدامات سے پیدا ہونے والا سیاہ کاربن بھی گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ذرات برف کی سطح پر جمع ہو کر سورج کی حرارت جذب کرنے کی صلاحیت بڑھاتے ہیں، جس سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کے کرائیوسفیئر مانیٹرنگ کے سربراہ ڈاکٹر شیر محمد نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے کے لیے علاقائی تعاون، نگرانی کے یکساں سائنسی طریقہ کار اور معلومات کے بروقت تبادلے کو فروغ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق روایتی پیشگی اطلاع کے نظام اب بدلتے ہوئے اور غیر معمولی خطرات کی نشاندہی کے لیے کافی نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قدرتی آفات کے خطرات کا جائزہ صرف اپنی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ پڑوسی ممالک میں رونما ہونے والے واقعات بھی پاکستانی آبادیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے آفات سے نمٹنے کی تیاری میں روایتی وارننگ سسٹم کے ساتھ مسلسل نگرانی اور سائنسی اعداد و شمار پر مبنی جدید نظام شامل کرنا ضروری ہے، جو زلزلوں سمیت غیر معمولی قدرتی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ قدرتی آفات کے بعد ہمیں روایتی پیشگی اطلاع کے طریقوں سے آگے بڑھ کر ایسے جدید نظام تلاش کرنے ہوں گے جو مسلسل نگرانی اور معلومات کے تجزیے کے ذریعے ممکنہ خطرات کی ابتدائی علامات سامنے لا سکیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ (NIDM) کے منیجر ریسرچ ڈاکٹر محمد عثمان نے خبردار کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود 13 ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں پہاڑی آبادیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان جھیلوں کی مؤثر نگرانی اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید پیشگی اطلاع کے نظام، مقامی آبادیوں کی تربیت اور سائنسی تحقیق کو ترجیح دینا ہوگی۔انہوں نے گلیشیائی علاقوں کو درپیش چار بڑے خطرات کی نشاندہی کی، جن میں گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے آنے والے سیلاب (GLOFs)، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، شدید برف باری اور بیک وقت رونما ہونے والی متعدد قدرتی آفات شامل ہیں۔ڈاکٹر محمد عثمان نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں موجود ہزاروں گلیشیائی جھیلوں میں سے بہت سی کسی بھی وقت تباہ کن سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ اگر ان کی مسلسل نگرانی اور حفاظتی انتظامات نہ کیے گئے تو پہاڑی علاقوں میں آباد لوگوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ان میں سے بیشتر جھیلیں ممکنہ تباہی کا خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ جدید اور مؤثر پیشگی اطلاع کے نظام قائم کیے جائیں تاکہ کسی جھیل کے پھٹنے یا پانی کے اچانک اخراج سے پہلے ہی متعلقہ آبادیوں کو خبردار کیا جا سکے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مناسب وقت مل سکے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit