ماہرین کا 2027 کے معاشی ایجنڈے کے لیے ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر زور 4.1-11737-News

ماہرین کا 2027 کے معاشی ایجنڈے کے لیے ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر زور 4.1-11737-News-SDPI

SDPI twitter

29th sdc Press Release Urdu


ماہرین کا 2027 کے معاشی ایجنڈے کے لیے ٹیکس، توانائی اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر زور 4.1

Calendar 05 Nov,2026

اسلام آباد : ماہرین اور حکومتی عہدیداروں نے پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کئی سالہ ٹیکس پالیسی، توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں میں بنیادی اصلاحات، برآمدات کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو آسان قرضوں کی فراہمی ضروری قرار دی ہے۔ انہوں نے کاروباری اداروں کے لیے ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنے کی خاطر ایک مشترکہ آن لائن نظام قائم کرنے اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل پر بھی زور دیا ہے جبکہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نےکہا ہے کہ  حکومت نے کاروباری طبقے سے مشاورت کے بعد متعدد اقدامات کئے ہیں۔ برآمدی آمدنی پر 0.25 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ باتیں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی)  اور کوکا کولا انٹرنیشنل کے اشتراک سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ چار روزہ 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے آخری روز ’’نجی شعبے کی ترقی اور 2027 کا مالیاتی پالیسی ایجنڈا‘‘  کے موضوع پراعلیٰ سطح کے مذاکرے میں کہی گئیں ۔وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے برآمدی آمدنی پر 0.25 فیصد سرچارج ختم کر دیا ہے جبکہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا بورڈ نجی شعبے کی اکثریتی قیادت کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جون کے بجٹ میں زیادہ تر آمدنی کے درجات پر انکم ٹیکس کی شرحیں کم کی گئیں اور فائنل ٹیکس نظام میں توسیع کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں 40 سے زیادہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان سے ملاقات میں سب سے بڑا مسئلہ قرضوں تک رسائی سامنے آیا۔ حکومت کی چھ فیصد شرح پر برآمدی ورکنگ کیپیٹل سہولت اور دو سال کے لئے دو فیصد، جبکہ اگلے آٹھ سال کےلئے پانچ فیصد شرح پر طویل مدتی برآمدی قرضوں کی سہولت چھوٹے کاروباروں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہی۔ حکومت بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایز کو دیے جانے والے قرضوں کی نگرانی کرے گی اور اسی بنیاد پر بینکوں کی کارکردگی میں فرق کرے گی۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ حکومت تین سے پانچ سال کےلئے ٹیکس پالیسی دستاویز تیار کر رہی ہے جس کا مقصد مالی گنجائش کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس، کم از کم ٹیکس اور سپر ٹیکس میں کمی لانا ہے۔ کاروباری اداروں کےلئے مختلف ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنے کی خاطر ایک مشترکہ پورٹل بھی بنانے کی منصوبہ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ترقیاتی اخراجات میں بہتر ہم آہنگی سے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔ تعلیم، صحت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی طویل مدتی معاشی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ ماحولیات اور صنعت کے درمیان سابقہ اختلاف اب تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ صنعتیں اور صارفین دونوں ماحول دوست معیار کے فوائد کو تسلیم کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) نے تاحال پاکستانی برآمدات کو متاثر نہیں کیا  تاہم صنعتوں کو ماحول دوست نظام کی طرف منتقل کرنے کی لاگت کون برداشت کرے گا، یہ سوال ابھی حل طلب ہے۔انہوں نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مستقل مکالمے کے لئے دوطرفہ پلیٹ فارم بنانے اور مقامی جدت، خصوصاً زرعی ٹیکنالوجی، کو فروغ دینے کےلئے ٹیکس رعایتوں سمیت حکومتی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سابق اسپیشل سیکریٹری خزانہ نور احمد نے کہا کہ ریاست کو قانون و انصاف، امن و امان، سکیورٹی اور بنیادی عوامی سہولتوں، بالخصوص بنیادی ڈھانچے اور انسانی ترقی پر توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہگزشتہ پانچ برس میں پاکستان کی معاشی ترقی بینک کے 56 رکن ممالک میں سب سے کم رہی۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی کے لئے معاشی استحکام بنیادی شرط ہے۔ آئندہ مالی سال میں ٹیکس پالیسی اور انتظامی نظام کی ازسرنو تشکیل، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے مسائل کا حل اور عارضی مراعات کے بجائے طویل مدتی برآمدی پالیسی ترجیحات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے سرکاری افسران اور کاروباری طبقے کے درمیان اعتماد کی کمی دور کرنے کے لئے براہِ راست رابطے پر بھی زور دیا۔نجی اور ترقیاتی شعبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہارون شریف نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی اور حکومتی آمدنی میں اضافہ ایک دوسرے کے معاون ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے فری لانسرز، ڈیجیٹل مواد بنانے والوں، منافع بیرون ملک منتقل کرنے اور زرمبادلہ کی آمد سے متعلق ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنے کی تجویز دی۔وزیراعظم آفس کی سینئر ایسوسی ایٹ برائے معاشی تبدیلی ڈاکٹر نادیہ طاہر نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ سست رہا ہے جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کم ہوئی ہے اور دستیاب قرضوں کا بڑا حصہ پیداواری سرگرمیوں کے بجائے استعمال پر خرچ ہوتا ہے۔ انہوں نے ریاست کا حجم کم کرنے، کاروباری ماحول بہتر بنانے، صنعتوں کی ترقی، سرمایہ کاروں کو سہولت دینے اور شراکت داری بڑھانے پر مشتمل پانچ نکاتی حکمت عملی بیان کی۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل و اقتصادی سفارت کاری ڈویژن کے نمائندے سفیر ابرار ایچ ہاشمی نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومتی تبدیلی کے باوجود پالیسیاں برقرار رہیں گی یا نہیں اور ریاست ایک متفقہ مؤقف رکھتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے پالیسیوں کا تسلسل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں، بیرون ملک تجارتی افسران کی مارکیٹ معلومات اور بیرون ملک پاکستانیوں سے روابط سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے قرضوں کے بجائے مشترکہ سرمایہ کاری، ایکویٹی اور ماحول دوست مالی معاونت کے بڑھتے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2027 کے مالیاتی ایجنڈے میں معاشی استحکام، پالیسیوں کی پیش گوئی کے قابل تسلسل اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو ترجیح دینی چاہئے۔مذاکرے کی نظامت کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو زینب نعیم نے کہا کہ مالیاتی منصوبہ بندی صرف بجٹ سے پہلے چند دنوں کی مشاورت تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس پر پورا سال کام کرنے کی ضرورت ہے۔

© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit