اسلام آباد : پاکستان میں پلاسٹک اور دیگر اقسام کے کچرے کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کےلئے صرف پلاسٹک پر پابندیاں لگانا کافی نہیں بلکہ کچرا جمع کرنے، اسے مختلف اقسام میں الگ کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا مؤثر نظام قائم کرنا ہوگا۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس مقصد کے لئے حکومت، صنعتوں، شہری اداروں، صارفین اور کچرا جمع کرنے والے غیر رسمی شعبے کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسیوں میں یکسانیت بھی ضروری ہے۔یہ بات 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے چوتھے روز پالیسی سے عملی اقدامات تک کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں کہی گئی۔ اجلاس کا عنوان ’’پاکستان میں بہتر نظام کے لیے توسیعی ذمہ داریِ پیداوار (ای پی آر) کو مضبوط بنانا‘‘ تھا، جس کا اہتمام ایس ڈی پی آئی نے کیا۔وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شیزرا منصب علی خان کھرل نے کہا کہ پاکستان میں کچرا جمع کرنے، اسے الگ الگ کرنے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری ضروری ہے۔ایڈیشنل سیکریٹری کلائمیٹ چینج ڈویژن عامر محی الدین نے کہا کہ پاکستان میں کچرا جمع کرنے کا نظام منتشر ہے اور گھروں سے ہی کچرے کو الگ کرنے کا رواج محدود ہے۔ اس کام کا بڑا انحصار غیر رسمی کارکنوں پر ہے، جنہیں مناسب تحفظ اور سرکاری سطح پر شناخت بھی حاصل نہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگ قومی پالیسی بنانے پر زور دیا۔کلیکٹ اینڈ ری سائیکل الائنس (کور الائنس) کی نمائندہ نمور یوسف رحمان نے پیکیجنگ کے لئے ای پی آر کے ہم آہنگ اور مرحلہ وار نظام سے متعلق وائٹ پیپر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کی تیاری میں تمام متعلقہ فریقوں، بالخصوص غیر رسمی شعبے کو شامل کیا جائے اور اسے پیکیجنگ کے علاوہ کچرے کی دیگر اہم اقسام تک بھی وسعت دی جائے۔گرین ارتھ ری سائیکلنگ لاہور کے چیف ایگزیکٹو بابر عزیز بھٹی نے کہا کہ ری سائیکلنگ کے لئے مواد کی نوعیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کور الائنس کے چیف ایگزیکٹو اور نیسلے پاکستان کے سربراہ برائے کارپوریٹ امور و پائیداری شیخ وقار احمد نے کہا کہ صنعتوں کو اپنی مصنوعات سے پیدا ہونے والے کچرے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ صوبوں کو وفاقی حکومت کے تعاون سے مشترکہ اور مرحلہ وار حکمت عملی اپنانی چاہئے تاکہ الگ الگ نظام قائم نہ ہوں۔ایس ڈی پی آئی کی ایسوسی ایٹ ریسرچ فیلو زینب نعیم نے کہا کہ کچرے کا انتظام صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس میں صنعتوں اور شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اختتامی خطاب میں سنتھیٹک پراڈکٹس انٹرپرائزز لمیٹڈ (ایس پی ای ایل) گروپ کے چیف ایگزیکٹو ضیا حیدر نقوی نے کہا کہ کوئی ٹیکنالوجی بذاتِ خود اچھی یا بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار اس کے استعمال پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ ری سائیکل پلاسٹک کی معاشی قدر موجود ہے لیکن سینیٹری پیڈز، ڈائپرز، کثیر تہوں والے پلاسٹک اور کچرے کے تھیلوں جیسی اشیا کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانا مشکل ہے۔انہوں نے صارفین میں آگاہی پیدا کرنے اور گھروں سے کچرے کی علیحدگی یقینی بنانے پر زور دیا۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit