اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لئے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی نشاندہی، پلیٹ فارمز کی جانب سے حقائق کی جانچ پڑتال اور مؤثر نگرانی لازمی قرار دی جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے پاکستان میں مقامی دفاتر قائم کرنے، آن لائن ہراسانی کے متاثرین کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کرنے اور غلط معلومات کے خلاف عالمی معاہدہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام 29ویں پائیدار ترقیاتی کانفرنس کے آخری روز ’’پوسٹ ٹروتھ دور میں ترقی کے تصور پر ازسرنو غور‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سوشل میڈیا کے الگورتھمز کا مقصد معلومات کی تصدیق کرنا نہیں بلکہ صارفین کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لئے مؤثر قانونی ضابطہ بندی ضروری ہے اور اشتہارات و فلم سازی جیسے تخلیقی شعبوں میں انسانی کردار برقرار رہنا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے شراکت دار ممالک کے دوروں کے دوران غلط معلومات کے خلاف عالمی معاہدے کی تجویز پیش کی ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پیکا قانون کا مقصد ڈیجیٹل جرائم کی روک تھام ہے، آزادی اظہار یا صحافیوں کے کام پر پابندی لگانا نہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے علاقائی دفاتر میںعملے کی تربیت کی جا رہی ہے جبکہ سوشل میڈیا ریگولیشن اینڈ پروٹیکشن اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے ہتک عزت قوانین، آن لائن ہراسانی کے خلاف کارروائی اور خواتین کو بلیک میل کرنے والوں کی سزا یقینی بنانے پر زور دیا۔قبل ازیں ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ کانفرنس میں مختلف بحرانوں اور ان کے ترقی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا جن میں سیلاب، حالیہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور سپلائی روٹس کی بندش شامل ہیں۔ توانائی کی ترسیل کے راستوں میں رکاوٹوں نے معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا جبکہ موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور سپلائی چین بھی اہم موضوعات رہے۔انہوں نے کہا کہ معلومات کی دنیا میں پھیلنے والی غلط خبریں بھی ایک بڑا بحران ہیں جس کا سامنا مغربی ممالک کو بھی ہے۔ امریکی انتخابات کے دوران من گھڑت معلومات اس کی مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عوام کا اعتماد اور اپنی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے معلومات تک رسائی اور آزادی اظہار کے حق کا تحفظ کریں۔اجلاس کے دوران ایس ڈی پی آئی کی ہیڈ آف ایکولوجیکل سسٹین ایبلٹی اینڈ سرکلر اکانومی یونٹ زینب نعیم نے کانفرنس کے ساتھ منعقدہ نمائش میں شریک اداروں اور کمپنیوں کو ایوارڈز دینے کا اعلان کیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کو آفات کے خطرات میں کمی کے وسائل کے استعمال کی وضاحت کرنے والے ڈیجیٹل اسٹال اور ماڈلز پر سراہا گیا جبکہ نیسلے پاکستان کو جدت اور پائیداری کے حوالے سے پیش کردہ نمائش پر اعزاز دیا گیا۔ پیپسی کو پاکستان کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اجلاس کے اختتام پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر جاوید اور ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے وفاقی وزیر اطلاعات کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit