کم عمر بچیوں کی فلاح کیلئے مخصوص اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، شرمیلا رسول، ڈاکٹر عابد
پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کیلئے مساوی اور جامع مالیاتی پالیسی سازی ناگزیر ہے، پری بجٹ پالیسی ڈائیلاگ
اسلام آباد ( ) ماہرین نے پائیدار ترقی اور سماجی انصاف کے حصول کے لئے مالیاتی نظام میں بنیادی اور جامع اصلاحات ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ کمزور طبقات پر بوجھ ڈال رہا ہے جبکہ امیر طبقے کو مراعات حاصل ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں میں”کلائمیٹ ٹیگنگ“ اور کم عمر بچیوں کی فلاح کیلئے مخصوص اقدامات کو بجٹ کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقررین نے ان خیالات کا اظہار وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، یونیسیف پاکستان اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) کے اشتراک سے جامع و پائیدار ترقی کیلئے مالی پالیسیوں کو مو ¿ثر بنانا: صنف اور بچوں کیلئے موزوں سرکاری سرمایہ کاری کی جانب پیش قدمی کے موضوع پرمنعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے پری بجٹ پالیسی ڈائیلاگ میںکیا۔ڈائیلاگ میں حکومتی نمائندوں، معاشی ماہرین، سول سوسائٹی اور ترقیاتی اداروں کے ارکان نے شرکت کی۔مقررین نے زور دیا کہ جب بجٹ خسارہ 6.8 فیصد سے زائد اور قرضوں کا حجم 70 فیصد سے بڑھ چکا ہو، تو ایسے حالات میں صحت، تعلیم، غذائیت اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کا تحفظ اور اس میں توسیع ناگزیر ہو جاتی ہے۔، مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں اور محروم طبقات کی ترقی کو مزید مو ¿خر نہیں کیا جا سکتا۔یہ گفتگو حکومتِ پاکستان کے”ا ±ڑان پاکستان“ فریم ورک ”مساوات و بااختیاری“ کے ستون کے تحت منعقد ہوئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مالیاتی نظام میں ایسے واضح اور ہدفی اصلاحات کی جائیں جو، جامع اور مساوی ترقی کی راہ ہموار کریں۔ایس ڈی پی آئی کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بیک وقت دو متضاد بین الاقوامی مالیاتی فریم ورکس پر عمل پیرا ہے۔ ایک کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور قرضوں کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ دوسرا ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مالی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی اثرات اور لڑکیوں کی تعلیم کو خاص طور پر شامل کیا جائے۔یونیسف پاکستان کی نمائندہ محترمہ شرمیلا رسول نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ مالیاتی ڈھانچہ نچلے طبقے پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے اور امیر طبقے کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یونیسف بچوں اور نوجوانوں کی بہبود سے ہم آہنگ مالیاتی پالیسی کے لیے حکومت پاکستان سے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔وزارتِ منصوبہ بندی کی نمائندگی کرتے ہوئے جوائنٹ چیف اکنامسٹ ڈاکٹر محمد علی تالپور نے کہا کہ ”اڑان فریم ورک“ کے تحت مالیاتی پالیسی کو معاشرتی انصاف کا آلہ بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں، خواتین اور نچلے طبقے کے افراد کو قومی ترقی کے دھارے میں لانے کے لئے مالیاتی ترجیحات پر ازسرِ نو غور ضروری ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک اعلیٰ سطح کے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان بھی کیا جو وسائل کی منصفانہ تقسیم اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے نئی راہیں تلاش کرے گا۔پینل مباحثے کی صدارت کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر لطف الرحمٰن نے کہا کہ صوبے میں لڑکیوں کے اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور بچوں کی فلاح پر سرکاری اخراجات ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات کو انسانی وقار اور مساوات کی بحالی کا ذریعہ ہونا چاہئے۔خیبر پختونخوا کے محکمہ منصوبہ بندی کے نمائندے پیر ایمل نے کہا کہ اڑان پاکستان فریم ورک کے تحت ان کے صوبے نے سماجی شعبے کی مالی ترجیحات کو اولین حیثیت دی ہے۔سندھ حکومت کے نمائندے نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں آفات سے بحالی اور دیرپا سماجی سرمایہ کاری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزارت خزانہ کی نمائندہ عائشہ جاوید نے کہا کہ رواں سال پہلی بار پاکستان کا وفاقی بجٹ صنفی بنیادوں پر ترتیب دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بجٹ سازی میں صنفی حساسیت کو مو ¿ثر طور پر شامل کرنے کے لئے ادارہ جاتی سطح پر بڑے پیمانے پر اقدامات درکار ہیں۔نسٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے بجٹ خسارے کی بنیادی وجہ بلند شرح سود کی ادائیگی کو قرار دیا اور تجویز دی کہ نئے انفراسٹرکچر منصوبوں پر پابندی عائد کی جائے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کو ترجیح دی جائے۔ورلڈ بینک کے نمائندے ٹوبیاس بیکر نے کہا کہ بجلی اور اعلیٰ تعلیم پر دی جانے والی سبسڈی کو غیر متوازن قرار دیا اور تجویز دی کہ سبسڈی کا رخ ابتدائی تعلیم اور مساوی مواقع کی طرف موڑا جائے۔ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے ایک مربوط فریم ورک ترتیب دینے پر زور دیا جو صنفی مساوات، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، اور نجی شعبے کی شمولیت کو بروئے کار لاتے ہوئے سماجی سرمایہ کاری میں بدلا جا سکے۔اختتامی خطاب میں رکن پلاننگ کمیشن (سماجی شعبہ) محترمہ سائمہ بشیر نے کہا کہ ملک کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ 2.38 فیصد ہو چکی ہے اور مہنگائی میں بھی کمی آئی ہے، تاہم غربت کی شرح بدستور بلند ہے اور ملک میں اب بھی 2 کروڑ 56 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بچوں، نوجوانوں اور خواتین کےلئے مالی وسائل کی ازسر نو تقسیم اور متبادل ذرائع کی تلاش کے لئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔
© 2026 SDPI. All Rights Reserved Designed and developed by NKMIS WEB Unit